آئی ایم ایف کی شرائط سے قوم کو آگاہ کیاجائے،پلوشہ خان

پیپلزپارٹی کی رہنما سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا ہے کہ اگر وزیرخزانہ شوکت ترین کے مطابق سابقہ وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے آئی ایم ایف کی ظالمانہ شرائط مانی ہیں تو قوم کو ان حقائق سے آگاہ کیا جائے۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ ہمیں آگاہ کیا جائے کہ قوم کو کتنے میں بیچا گیا ہے انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہمیں ان شرائط کو دیکھنے کا حق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ندیم بابر پر 3 سو ارب روپے کرپشن کا الزام ہے جبکہ خسروبختیار اور رزاق داؤد پر بھی الزمات ہیں جبکہ حکومت ایک شخص کے پیھچے پڑی ہے۔

پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ علاج کے بہانے کسی کو باہر نہیں بھاگنا چاہیے لیکن اگر کسی کو عدالت نے اجازت دی ہے تو اسے روکنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔

رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ حکومت نے چینی مافیا کو این آر او دے دیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر کیا ہورہاہے اس پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔

پلوشہ خان نے کہا کہ پاکستان سے تھائی لینڈ گئے مسافروں میں کرونا کے انڈین ویرینٹ کی تشخیص ہوئی ہے حکومت کو اس حوالے سے بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ ن طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم انتہائی افسوسناک ہیں اگر اس طرح کا کوئی واقعہ مغرب میں ہوتا تو دنیا میں آگ لگ جاتی لیکن اس وقت اس پر مکمل خاموشی ہے۔

ملک میں جاری احتساب کے عمل سے متعلق طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر آپ کا ارادہ یہ ہو کہ ان کا احتساب کرنا ہے جنہوں نے ملک لوٹا ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر آپ کے دل میں صرف ایک خاندان کےلیے نفرت اور کینہ بھرا ہو تو یہ احتساب نہیں انتقام کہلاتا ہے۔

رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے این آر او کس نے مانگا ہے اگر آپ صاف و شفاف احتساب کریں گے تو پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہو گی۔

 مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت مذاکرات سے متعلق طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیرخارجہ کو بھی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ اس حوالے سے کیا کہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تو معاملے کو پارلیمنٹ میں لے جائے وہاں سے انہیں اچھا مشورہ ملے گا۔

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے پہلے ایک اور وفاقی وزیر شیریں مزاری نے وزیرخارجہ سے اختلافات کے باعث وزارت خارجہ پر تنقید کی تھی ان باتوں کا نقصان ملک کو ہوگا۔

طارق فضل چوہدری کا کرونا وائرس کی صورتحال سے متعلق کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں منفی پروپیگنڈا تیزی سے پھیلتا ہے اس لیے ہم ابھی تک پولیو کو ختم نہیں کرسکے، دنیا بھر میں کرونا صورتحال تشویش ناک  ہے عوام کو عید پر اختیاط کرنے کی ضرورت ہے

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ ہمیں عوام نے احتساب کے نام پر ووٹ دیا ہے لہٰذا احتسابی عمل بلاتفریق جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ایسے عزائم نہیں ہیں کہ منصب سے فائدہ اٹھا کر مال بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کا نظام اس سطح کا نہیں کہ جلدی احتساب ہوسکے کیوں کہ اس نظام کو کبھی بنانے ہی نہیں دیا گیا۔

عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کیخلاف ایک سو سے زائد گواہان موجود ہیں اور کیس کا فیصلہ ابھی ہونا ہے پچھلی بار تو شہبازشریف نے خود ضمانت کینسل کرائی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم نے آج واضح کردیا ہے کہ ہمارا وہی اصولی مؤقف ہے جس سے ہم پیچھے نیہں ہٹیں گے۔

عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرنے والی ن لیگ کے اپنے دور حکومت میں کوئی وزیرخارجہ ہی نہیں تھا۔

عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ کرونا کی مختلف اقسام سامنے آرہی ہیں اور لگتا ہے کہ  آئندہ بھی ہمیں ایسی ہی صورتحال کا سامنا رہے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی وہ عید کے موقع پر کرونا ایس اوپیز پر سختی سے عمل کریں۔

متعلقہ خبریں