آزادیِ اظہار رائے: مغربی میڈیا نےاپنے اصول بھلادیئے

عمران خان کےطویل انٹرویو کےکچھ حصے حذف کردیئے

آزادیِ اظہار رائے کے دعوے دار مغربی ميڈيا نے اپنے ہی اصول بھلا ديئے۔

امریکی ٹی وی چینل ایچ بی او ایکزیوس نے وزيراعظم عمران خان کا طویل ترین انٹرویو کے صرف من پسند حصے نشر کیے جبکہ بھارت ميں مودی سرکار کی ہندوتوا پر مبنی نفرت انگيز پاليسيوں سے متعلق گفتگو حذف کردی جس پر پاکستان نے خط لکھ چینل سے وضاحت مانگ لی۔

پاکستان نے موقف اپنایا ہے کہ امريکی چينل نے وزیراعظم نے طویل انٹرویو دیا تاہم جس میں انہوں نے افغانستان کے مسئلے، امريکی اڈوں، چين ميں مسلمانوں سے مبينہ زيادتيوں، اسلاموفوبيا اور پردے جيسے موضوعات پر عمران خان کی باتيں نشر کیں وہ نشر کی گئیں لیکن بھارت کے ذکر کو مکمل حذف کردیا گیا۔

امریکا کو بیس دینےپر دہشتگرد پاکستان کونشانہ بنائیں گے،وزیراعظم

خط میں کہا گیا کہ پاکستان نے وزیراعظم کے انٹرويو کو سنسر کرنا آزادیِ اظہار رائےکے خلاف ہے۔ امريکی چينل کی جانب سے پورا انٹرويو نہ نشر کيے جانے کے بعد سرکاری ٹی وی اور وزيراعظم آفس کے آفيشل اکاؤنٹ سے مزيد کچھ حصے سب ٹائٹل کے ساتھ جاری کيے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے انٹرویو میں امریکا کو افغانستان کےخلاف کسی بھی قسم کے اڈے اور بیسز دینے سے انکار کردیا تھا۔ پاکستان نے موقف اپنایا تھا کہ امريکا کو فضائی اڈے دیئے تو پاکستان دہشتگردوں کا ہدف بن سکتا ہے، امريکا 20 سال ميں جنگ نہ جيت سکا اب کیسے جیت لےگا۔

مردروبوٹ نہیں، عورت کم کپڑے پہنے گی تواسکا اثرہوگا، وزیراعظم

انٹرویو میں وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ امریکا کی افغان میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا پاکستان کے 70 ہزار سے زائد شہری شہید ہوئے جبکہ اس دوران پاکستان 150 بلین ڈالر کا نقصان برداشت کرچکا ہے۔

پاکستان امریکا کو کوئی اڈہ فراہم نہیں کرےگا، وزیراعظم

وزیراعظم کے اس انٹرویو کا ایک حصہ کافی متنازعہ رہا جس میں خواتین کے کپڑوں کا ذکر کیاگیا تھا، عمران خان کا کہنا تھا کہ مرد کوئی روبوٹ نہیں، اگر عورت کم کپڑے پہنے گی تو اس کا اثر تو ہوگا، ہمارے ہاں ڈسکو یا نائٹ کلب نہیں، یہ بالکل مختلف معاشرہ ہے۔

متعلقہ خبریں