’آم‘ کے پھل نے سادہ لوح انڈین جوڑے کو دولت مند کیسے بنایا؟

فطرت کا قانون ہے کہ دولت اکثر اوقات محنت اور  جہد مسلسل سے آتی ہے، بعض اوقات اس میں قسمت بھی اپنا حصہ ڈالتی ہے اور اس میں اضافہ ہوجاتا ہے، لیکن آپ محض قسمت کے کھیل سے دولت مند ہوجائیں ایسا بہت کم ہوتا ہے۔
کچھ ایسا ہی انڈیا کے کسان جوڑے رانی اور سنکلپ باریہا کے ساتھ ہوا۔جب انہیں اس بات کا علم ہوا کہ دنیا میں آموں کی سب سے مہنگی قسم انہوں نے کاشت کررکھی ہے، ان کے پاس میازاکی آموں کے درخت ہیں جن کے ایک کلو آم کی قیمت دو لاکھ 70 ہزار روپیہ ہے جو 3630 امریکی ڈالر بنتے ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ کہانی انڈین ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت جبل پور سے شروع ہوتی ہے جو ایک ہالی وڈ فلم کی طرح ہے۔ یہ قصہ تین سال قبل شروع ہوا تھا جب رانی کا شوہر آم کے کےہ درختوں کے بیج خریدنے کے لبے ملک کے جنوب میں چنئی گئے تاکہ وہ اسے کاشت کرسکیں۔ ٹرین میں جاتے ہوئے ان کی ملاقات ایک پراسرار آدمی سے ہوئی جس نے انہیں آموں کی اس نسل کے بیج دیے۔
باریہا نے ہندوستان ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس شخص نے مجھے ان بیجوں کو کاشت کرنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کو کہا ایسے کہ گویا وہ میرے بچے ہیں، میں نے واپس آکر وہ بیج کاشت کردیے مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ آم کس نوعیت کے ہوں گے۔
2020 میں جب درختوں نے پھل دینا شروع کیا اور پھل لگے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ کسی بھی طرح سے آم نہیں لگ رہے تھے, ان کا رنگ، بناوٹ اور بو ہر چیز سے بالکل مختلف تھی۔

ایک کلو میازاکی آم کی قیمت دو لاکھ 70 ہزار روپیہ ہے جو 3630 امریکی ڈالر بنتے ہیں (فوٹو: الرجل)
باریہار نے مزید بتایا کہ ’چونکہ میں اس قسم کا آم نہیں جانتا تھا، اس لیے میں نے ان کا نام اپنی ماں (دیمینی) کے نام پر رکھا اور اس کے بعد ہم نے اس قسم کی تلاش شروع کی اور ان کی اصل نسل کے بارے میں جان لیا، لیکن یہ اب بھی میرے لیے دیمینی کے نام پر ہی ہیں۔
باریہار حیرت زدہ تھا کہ آموں کی یہ قسم میازاکی قسم سے تھے، جو جاپان کی اصل ہے اور پوری دنیا کے مہنگے ترین پھلوں میں شمار ہوتے ہیں۔
جاپانی میڈیا کے مطابق ان پھلوں میں ہر کلو کی قیمت 270000 روپیہ یا تقریباً 3630 امریکی ڈالر ہے، اور اگر آپ کے پاس صرف ایک عام ہے تو  اس کی قیمت 50 ڈالر سے زائد ہوگی جو آموں کی قسم اب اس انڈین جوڑے کے پاس موجود ہے۔

یہ کہانی انڈین ریاست مدھیہ پردیش سے شروع ہوتی ہے جو ایک ہالی وڈ فلم کی طرح ہے (فوٹو: ٹائمز آف انڈیا)
 میازاکی قسم کے ان پھلوں کی خبر پورے شہر میں پھیل گئی، جس کے بعد بہت سارے لوگوں نے ان کی جانب رخ کیا، باریہا کے مطابق پچھلے سال کچھ چور ان کے باغ میں داخل ہوئے اور آم کے 14 درخت چوری کرکے لے گئے، خوش قسمتی سے وہ باقی درختوں کی حفاظت کرنے میں کامیاب رہے۔
لہٰذا اب اس  کسان جوڑے کا مطالبہ ہے کہ اس باغ کی خصوصی حفاظت کے لیے انہیں سکیورٹی فراہم کی جائے۔