احتجاج کی اجازت دی تھی دہشتگردی کی نہیں،تیمور تالپور

پیپلزپارٹی کے رہنما تیمور تالپور نے اتوار کو روز بحریہ ٹاؤن میں مظاہرین کی ہنگامہ آرائی کے حوالے سے کہا کہ ایک جمہوری حکومت کی حیثیت سے ہم نے قوم پرست جماعتوں کو احتجاج کی اجازت دی تھی لیکن وہاں جو ہوا وہ مظاہرہ نہیں بلکہ دہشت گردی تھی۔

سماء کے پروگرام 7 سے 8 میں گفتگو کرتے ہوئے تیمور تالپور کا کہنا تھا کہ قوم پرست جماعتیں جہاں بھی احتجاج کرنا چاہتی ہیں ہم انہیں احتجاج دے دیتے ہیں لیکن احتجاج اور دہشت گردی میں فرق ہوتا ہے۔

تیمپور تالپور کا کہنا تھا کہ کل جو ہوا وہ انتہائی افسوس ناک ہے لیکن اب سندھ حکومت وہ اقدام کرے گی کہ آئندہ کسی کو اس طرح کی حرکت کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کی حکمت عملی درست تھی اگر خدانخواستہ کوئی جانی نقصان ہوتا تو پھر لوگ یہ سوال اٹھاتے کہ اتنا سخت ایکشن کیوں لیا گیا۔

تیمور تالپور کا کہنا تھا کہ واقعہ میں ملوث سیکڑوں لوگ گرفتار ہوچکے ہیں جبکہ مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔

بحریہ ٹاؤن میں قبضوں سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہمیں وہاں قبضوں کی شکایات ملی تھیں جس پر بلاول بھٹو نے نوٹس لیا تھا اور اس معاملے میں کئی پولیس اہلکاروں کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ پہلے اپنی زمینیں بیچ دیتے ہیں اور جب قیمت بڑھتی ہے تو وہ چاہتے ہیں کہ زمین انہیں واپس مل جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکثر اس قسم کے تنازعات سامنے آئے ہیں تاہم فیصلہ اب عدالت کرے گی۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ کل جو ہوا وہ دہشت گردی تھی اور وہ لوگ باقاعدہ منصوبہ بندی سے آئے تھے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو صرف اعلانات نہیں اقدامات کرنے چاہیں کیوں کہ یہ تاثر عام ہے کہ پیپلزپارٹی لسانی سیاست کرتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی اور حیدرآباد کو ایک بار پھر اس آگ میں دھکیلا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو سزا دینی چاہیے کیوں کہ اس پر عوام کا پیسہ لگا ہے جب بحریہ ٹاؤن بن رہا تھا تب یہ لوگ کہاں تھے۔

حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن میں سندھ بھر کے لوگوں کے پیسوں سے بنی ہوئی ہے اور ہمار پاس بھی بہت سارے شکایت کنندگان آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا بحریہ ٹاؤن انتظامیہ سے معاہدہ ہوا تھا جس کے بعد لوگوں کو ادائیگیاں شروع کردی گئیں۔

جماعت اسلامی کراچی کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ ان تمام سودوں میں سندھ حکومت ملوث ہے اور سپریم کورٹ کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔

متعلقہ خبریں