’احسان اللہ احسان کے فرار کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی‘

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ ’احسان اللہ احسان کے فرار کے ذمہ دار تمام افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔‘
بدھ کو راولپنڈی میں غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’وہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کی تعداد نہیں بتا سکتے لیکن اس میں جو بھی ذمہ دار تھے، تمام کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’انہیں نہیں پتا کہ احسان اللہ احسان کہاں ہیں تاہم ان کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے اور اس سلسلے میں جلد اہم خبر سننے کو ملے گی۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’ان کی معلومات کے مطابق جس اکاؤنٹ سے ملالہ یوسفزئی کو تازہ دھمکیاں دی گئیں، وہ احسان اللہ احسان کا نہیں ہے۔‘
مزید پڑھیں
ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ دنوں ہزارہ برادری پر ہونے والے حملے کے حوالے سے اہم گرفتاریاں کی گئی ہیں۔‘
’اس سلسلے میں مزید معلومات نہیں دی جا سکتیں کیونکہ ابھی مزید کارروائی ہونا باقی ہے، اس کے متعلق بھی اہم اعلان جلد کیا جائے گا۔‘

’بچے کچھے دہشت گرد سافٹ ٹارگٹس کی تلاش میں ہیں‘

ایک اور سوال کے جواب میں میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ’وزیرستان میں ہلاک کی جانے والی چار این جی او ورکرز کے کام کے بارے میں کسی کو علم نہیں تھا، اسی لیے ان کی سکیورٹی کمپرومائز ہوئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’قبائلی علاقوں میں بچے کھچے عسکریت پسند یا جرائم پیشہ افراد ایسے واقعات میں ملوث ہو سکتے ہیں۔‘  
ان کا کہنا تھا ’ہم نے دہشت گردوں کا انفراسٹرکچر تباہ کر دیا ہے اور ان کی بڑے حملے کرنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچایا ہے، جس کے بعد وہ سافٹ ٹارگٹس پر حملے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں بچے کھچے دہشت گرد سافٹ ٹارگٹس پر حملے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’پاکستان سے صفایا ہو جانے کے بعد یہاں کارروائیاں کرنے والے گروپ افغانستان میں دوبارہ اکٹھے ہوئے اور وہاں دشمن ملک جیسا کہ انڈیا کی ایجنسیز نے انہیں وسیع پیمانے پر فنڈز اور اسلحہ دیا، جبکہ افغانستان کے پاس ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔‘
 انہوں نے توقع ظٓاہر کی کہ ’اس سال کےاختتام تک سرحد پر باڑ لگانے کا کام مکمل ہو جائے گا جس کے بعد ایسے واقعات میں کمی ہو گی۔‘

’پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے‘

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ’نئی امریکی انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ معاہدے پر نظرثانی کا کہا ہے تاہم انہوں نے ٹائم لائن بڑھانے کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے اور امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات کے ذریعے امن کا جو بھی رستہ نکلے گا پاکستان کے لیے قابل قبول ہو گا۔‘

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے (فوٹو: پی آئی ڈی)
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’طالبان پر پاکستان کے اثر و رسوخ کو اکثر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تاہم پاکستان کا ان پر جتنا بھی اثر و رسوخ تھا وہ افغانستان میں امن کے لیے استعمال کیا جا چکا ہے۔‘

’خطے میں امن کے لیے مناسب ماحول نہیں‘

  انہوں نے انڈیا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان نے امن کے لیے بار بار انڈیا کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اگر اسے قبول کیا جائے تو آئندہ بھی ایسا کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن خطے میں امن کے لیے مناسب ماحول موجود نہیں۔‘
ان کے بقول ’ہمیں ہمارے سامنے موجود خطرے کی صلاحیت کا علم ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے موجود اپنی صلاحیت کا بھی علم  ہے۔‘
انہوں نے اداروں کے کچھ ڈیسک ٹاپ اور موبائل فونز پر ہیکنگ کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ان کی تحقیقات جاری ہیں۔
سی پیک کی سکیورٹی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’اسے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر بہتر بنایا گیا ہے اور اس سلسلے میں فورس کے 58 نئے ونگز تشکیل دیے گیے ہیں جب کہ مزید 15 ونگز بھی تیار کیے جائیں گے۔‘
خیال رہے نوبل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے 16 فروری کو ایک ٹویٹ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی دھمکی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’تحریک طالبان کے سابق ترجمان نے میرے اوپر ہونے والے حملے سمیت کئی معصوموں پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، اب وہ سوشل میڈیا پر لوگوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں‘
انہوں نے یہ سوال بھی پوچھا تھا کہ ’وہ فرار کیسے ہوئے؟‘

ملالہ یوسف زئی نے 16 فروری کو ایک ٹویٹ میں احسان اللہ احسان کی جانب سے دی جانے والی دھمکی کا ذکر کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
17 اپریل 2017 کو پاکستان کی فوج کی جانب سے کہا گیا تھا کہ احسان اللہ احسان نے خود کو فورسز کے حوالے کر دیا ہے۔
تاہم فروری 2020 میں ایسی خبریں گردش کرنا شروع ہوئیں کہ وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
11 فروری 2020 کو ان کی مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آئی جس میں انہوں نے فرار ہونے کا انکشاف کیا تھا۔
17 فروری 2020 کو جب اس حوالے سے سوال سابق وفاقی وزیر داخلہ اعجاز سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرار کی تصدیق کر دی تھی۔
انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کی خبر درست ہے‘