اداکارہ صوفیہ مرزا کے سابق شوہر کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ہائی کورٹ نے لائبیریا میں تعینات پاکستانی سفیر عمر فاروق ظہور کا نام ای سی ایل سے فوری نکالنے کا حکم دے دیا۔
عمر فاروق اداکارہ صوفیہ مرزا کے سابق شوہر ہیں اور ان پر اپنے ہی بچے کو اغوا کرنے کا الزام ہے۔  
حال ہی میں عمرفاروق کو لائبیریا کا سفیر تعینات کیا گیا اور انہوں نے اپنا نام ای سی ایل سے نکلوانے اور اپنے خلاف جاری ریڈ وارنٹ ختم کروانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
مزید پڑھیں
عدالت نے ان کے سفیر بننے کے بعد ان کے مقدمات میں استثنیٰ کے حق کو تسلیم کر لیا ہے۔
عدالت کا اپنے تحریری فیصلے میں کہنا ہے کہ ویانا کنونشن کے تحت سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو فوجداری مقدمات میں قانونی استثنیٰ حاصل ہے۔  

مقدمے کا پس منظر 

اداکارہ صوفیہ مرزا نے 2006 میں عمر فاروق ظہور سے شادی کی تھی اور ان کے ہاں جڑواں بچیوں کی پیدائش ہوئی، تاہم ان کی شادی زیادہ دیر نہ چل سکی۔
دونوں بچیوں کی حوالگی کے لیے مقدمہ لاہور کی گارڈین کورٹ میں چلا جہاں عدالت نے دوبچیاں ماں کے حوالے کر دیں۔  
بعد ازاں صوفیہ مرزا نے عدالت سے رجوع کیا کہ ان کے سابق شوہر نے دونوں بیٹیاں اغوا کر لی ہیں۔

اداکارہ کے سابق شوہر نے نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
لاہور ہائی کورٹ نے ان کے سابق شوہر عمر فاروق ظہور کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا تھا۔ تاہم 2009 میں ایف آئی اے نے عدالت کوبتایا کہ وہ جعلی پاسپورٹ پر ملک سے فرار ہوچکے ہیں۔
ہائی کورٹ نے ان کے ریڈ وارنٹ جاری کروانے کا حکم دیتے ہوئے انہیں بیرون ملک سے گرفتار کر کے واپس لانے کی ہدایات جاری کیں۔  
اس دوران یہ مقدمہ تقریباً ایک دہائی سے زائد عرصے تک چلتا رہا۔
اب عمرفاروق ظہور نے عدالت میں اپنے وکیل کے توسط سے درخواست دائر کی ہے کہ وہ لائبیریا میں پاکستان کے سفیر تعینات ہو چکے ہیں، لہٰذا ان کے خلاف جاری ریڈ وارنٹ کی کارروائی روکی جائے اور ان کا نام بھی ای سی ایل سے نکالا جائے۔  

عمر فاروق ظہور کو حال ہی میں لائبیریا میں پاکستان کا سفیر تعینات کیا گیا ہے (فوٹو: عمر فاروق، ویب سائٹ)
عدالت نے مقدمے میں صوفیہ مرزا کے فریق بننے کی درخواست بھی منظور کر لی ہے اور وفاقی حکومت کو احکامات جاری کیے ہیں کہ عمر فاروق ظہور کا نام ای سی ایل سے فوری نکالا کیا جائے۔  
تاہم ابھی تک یہ معمہ حل نہیں ہوا کہ دونوں بچیاں اس وقت کہاں ہیں، کیونکہ ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں دائر کیے جانے والے جواب میں کہا گیا ہے کہ عمر فاروق ظہور 2009 میں جعلی دستاویزات پر بذریعہ کراچی سے بیرون ملک فرار ہوئے تاہم ان کے ساتھ ان کی کم سن بچیاں نہیں تھیں۔
عدالت نے بعدازاں دونوں بچیوں کے نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیے تھے کہ انہیں ملک سے باہر نہ لے جایا جا سکے۔  
عدالت نے اپنے حکم نامے میں یہ بھی کہا ہے کہ حکومت فیملی کورٹ میں چلنے والے مقدمے میں مداخلت نہیں کر سکتی۔