ارکان اسمبلی کے ایوان میں داخلے پر پابندی، کب اور کون نشانہ بنا؟

معطل ارکان ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ بھی نہیں ڈال سکیں گے (فوٹو: قومی اسمبلی سیکرٹریٹ)

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سات ارکان اسمبلی کے ایوان میں داخلے پر پابند عائد کی ہے، تاہم مسلم لیگ ن نے وفاقی وزرا کو معطل نہ کیے جانے پر سپیکر کے رویے پر تحفظات کا کا اظہار کیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ سپیکر کی جانب سے ارکان اسمبلی یا کسی ایک رکن پر پابندی عائد کی گئی ہو بلکہ ماضی میں بھی ایسے واقعات ہوئے جب سپیکر نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ارکان کے ایوان میں داخلے پر پابندی عائد کی۔ 
قومی اسمبلی حکام کے مطابق ’بدھ کو معطل ہونے والے سات ارکان کے علاوہ ماضی میں نوابزادہ غضنفر گل، فیصل صالح حیات، جمشید دستی، چوہدری اسد الرحمان اور کئی دیگر ارکان بھی اس پابندی کا سامنا کر چکے ہیں۔‘
مزید پڑھیں
موجودہ دور حکومت میں سینیٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی تھی جبکہ پنجاب اسمبلی سمیت دیگر صوبائی اسمبلیوں میں بھی ارکان کی رکنیت معطل کی جاتی رہی ہے۔
حکام کے مطابق ’90 کی دہائی میں سپیکر سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے اپنی ہی جماعت کے رکن نوابزادہ غضنفر علی گل کی رکنیت معطل کی گئی جب انھوں نے ایوان کے تقدس کا خیال نہیں رکھا تھا۔‘
پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی نے ایوان میں ہونے والے ایک ناخوشگوار واقعے کے ضمن میں پیپلز پارٹی کے رکن جمشید دستی کی رکنیت پورے سیشن جبکہ مسلم لیگ ق کے مخدوم فیصل صالح حیات کی رکنیت ایک دن کے لیے معطل کر دی تھی۔
ڈپٹی سپیکر نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مذکورہ دونوں ارکان نے اجلاس کے دوران سپیکر کے منصب کا احترام نہیں کیا اور نازیبا الفاظ استعمال کیے جس کی وجہ سے ان کی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔‘
پاکستان مسلم لیگ ن کے دور میں سپیکر ایاز صادق نے بھی اپنی جماعت کے رکن چوہدری اسد الرحمان کی رکنیت معطل کرکے پورے اجلاس کے لیے ایوان مین ان کے داخلے پرپابندی عائد کر دی تھی۔
چوہدری اسد الرحمان نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری قومی اسمبلی کے ساتھ بدتمیزی کی تھی۔

ن لیگ ہی کے دور میں لیگی رکن جاوید لطیف اور تحریک انصاف کے مراد سعید کے دوران شدید جھگڑا ہوا۔ تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی جس نے جاوید لطیف پر سات روز جب کہ مراد سعید پر دو روز کے لیے پابندی عائد کرنے کی سفارش کی تھی۔ تاہم سپیکر کی جانب سے پابندی عائد کرنے سے قبل ہی دیگر ارکان کی مداخلت سے دونوں کے درمیان صلح ہوگئی تھی۔
موجود دور حکومت میں بھی ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ کو پورے اجلاس کے لیے معطل کرتے ہوئے ایوان سے باہر نکال دیا تھا، تاہم اپوزیشن کے احتجاج اور راجا پرویز اشرف کی مداخلت پر ڈپٹی سپیکر نے رولز معطل کرتے ہوئے انہیں ایوان میں داخلے کی اجازت دے دی۔
2018 میں سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور سینیٹر عثمان کاکڑ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ اس کے اگلے ہی روز چیئرمین سینیٹ نے سخت رولنگ دیتے ہوئے پورے اجلاس کے لیے وفاقی وزیر کے داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ 
2018 میں ہی سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے  بجٹ اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی کرنے، سپیکر اور حکومت کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے، توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر حامل اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن کے چھ اراکین اسمبلی محمد اشرف رسول ،ملک محمد وحید، محمد یسین عامر، محمد مرزا جاوید، زیب النسا اور طارق مسیح گل کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بجٹ اجلاس کے اختتام تک اجلاس میں شرکت پر پابندی عائد کر دی تھی۔
سپیکر اسد قیصر کی جانب سے سات ارکان پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد لیگی رکن علی گوہر بلوچ اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے تو سارجٹ ایٹ آرمز نے انہیں اندر جانے سے روکا جس پر انہوں نے ہنگامہ آرائی کرنے والے وزرا کو معطل نہ کرنے پر سوالات اٹھائے۔

اس حوالے سے سابق ایڈیشنل سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر حنفی نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’ماضی میں دھکم پیل اور گالم گلوچ تو ہوتی رہی ہے لیکن کبھی بھی کوئی رکن کرسی یا بینچ کے اوپر چڑھ کر مخالفین پر کتابیں پھینکتا ہوا نہیں پایا گیا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سپیکر نے جانب داری کا مظاہرہ کیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’وزرا،وزارت بعد میں سنبھالتے ہیں اور رکن اسمبلی پہلے ہیں اس لیے سپیکر کے اختیار میں ہے کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کرتے۔ مراد سعید، علی امین گنڈا پور، شفقت محمود، شیریں مزاری اور دیگر کے نام بھی معطل ارکان کی فہرست میں شامل ہونے چاہیے تھے۔‘ 
ان کے مطابق ’معطل ارکان ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ بھی نہیں ڈال سکیں گے۔‘