اساتذہ اندرون بلوچستان نوکری کریں یا استعفیٰ دیں، صوبائی وزیرتعلیم

Sardar Yar Rind

وزیر تعلیم بلوچستان سردار یار محمد رند نے کہا ہے کہ اساتذہ کو اب اندرون بلوچستان نوکری کرنی پڑے گی ورنہ استعفیٰ دیں اور گھر چلے جائیں۔

کوئٹہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر تعلیم بلوچستان سردار یار محمد رند نے اساتذہ کو وارننگ دے دی۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ بھرتی ہونے کے بعد کوئٹہ میں ڈیوٹی کی خواہش کرتے ہیں، اساتذہ اندرون بلوچستان ڈیوٹیاں دینے کے لئے تیار نہیں۔

سردار یار محمد رند نے کہا کہ منسٹری کی اوقات کچھ نہیں اب بلوچستان میں جہاں زیادتی ہوگی آواز اٹھاؤں گا، میں نے وزارت اس لیے قبول کی کہ یہاں تعلیم کا مربوط نظام دے سکوں۔

انہوں نے کہا کہ 14 ماہ میں 14روپے کی کرپشن بھی ثابت ہو جائے تو سیاست چھوڑ دوں

وزیر تعلیم کہتے ہیں کہ بلوچستان میں تعلیم کی ترقی کے لیے فوج کا کردار نمایاں ہے۔ صوبے میں اب تک 4ہزار اور 2200 نان ٹیچنگ اسٹاف کو بھرتی کر چکے جبکہ 2100 مزید بھرتیاں کریں گے۔

سردار یار محمد رند نے کہا کہ اپنے دور میں پانچ سالہ ایجوکیشن سیکٹر پلان شروع کیا ہے، اب تک 2ہزار اساتذہ کو پائٹ (صوبائی ادارہ برائے اساتذہ تعلیم) کے ذریعے تربیت دی جا چکی ہے اور حکومت بلوچستان اساتذہ کی تربیت کے لیے 10کروڑ روپے فراہم کرے گی۔

صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ ساڑھے تین ارب روپے کی لاگت سے 8 اضلاع میں 4سالہ اسکول نیوٹریشن پروگرام شروع کیا ہے، بلوچستان کے تمام 32 اضلاع میں ریذیڈنشل اسکولز بنا رہے ہیں، بلوچستان کے تمام سات ڈویژنز میں کیڈٹ کالج بنائے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں