اسامہ لادن کےپاکستان سےپکڑےگئےذاتی محافظ کا انتقال

فوٹو: العربیہ

القائدہ تنظیم کے بانی اسامہ بن لادن کے ذاتی محافظ ابراہیم ادریس انتقال کرگئے۔ وہ دسمبر 2001 میں پاکستان سے گرفتار ہوئے اور بعد ازاں امریکہ کے گوانتانامو کے حراستی مرکز میں 11 برس قید کاٹنے کے بعد رہا کیے گئے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر بارک اوباما کے حکم پر گوانتا نامو کی قید سے رہائی پانے والے ادریس کا 60 برس کی عمر میں انتقال ہوا اور واشنگٹن میں سوڈانی مفادات کی نمائندگی کرنے والے ایک وکیل کرسٹوفر کورن نے ان کی موت کی وجہ دوران حراست لاحق ہونےوالی طبی پیچیدگیوں کو قرار دیا۔

رہائی کے بعد ادریس شدید بیمار اور مشرقی سوڈان کے شہر پورٹ سوڈان میں اپنی والدہ کے گھر مقیم تھے۔ سوڈان کے ایک اور سابق قیدی سامی الحاج کے مطابق ادریس پر جزیرہ گوانتا نامو کے بدنام زمانہ حراستی مرکز گوانتانامو میں بدترین تشدد کیا گیا تھا۔رہائی کے موقع پر ادریس کے بارے میں سابق امریکی صدر اوباما نے کہا تھا کہ اب وہ سلامتی کے لیے زیادہ خطرہ نہیں رہے۔

امریکا میں 11 ستمبر 2001 کو ہونے والے حملوں کے 3 ماہ بعد دسمبر 2001 میں تورا بورا کی لڑائی سے بھاگتے ہوئے ادریس کو پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر خیال کیا جاتا تھا کہ وہ اسامہ بن لادن کی سیکیورٹی سے منسلک تھے تاہم سن 2008 کے بعد سے امریکی فوجی انٹلی جنس پروفائل کی لیک ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ادریس پرکوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔

ادریس کو 20 دیگر قیدیوں کے ساتھ 11 جنوری 2002 کو گوانتانامو لے جایا گیا تھا۔ پینٹاگون نے اپنی اوپن ایئر جیل کیمپ ایکس رے کو دشمن کے جنگجوؤں کو نظربند اور تفتیشی کمپلیکس کے طور پر استعمال کیا۔ اس جیل کے اندر سے سامنے آنے والی تصاویر میں قیدیوں کی آنکھوں پر پٹی بندھے ہوئے گھٹنوں کے بل بیٹھے نارنگی رنگ کے کپڑے پہنے دکھایا گیا اور ان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالی گئی تھیں۔

فوجی طبی ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ادریس نے جیل کے طرز عمل سے متعلق صحت کے یونٹ میں طویل عرصہ گزارا جہاں فوج کے ایک ماہر نفسیات نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ انہیں شیزوفرینیا تھا اور وہ ذیابیطس اور جیل میں ہائی بلڈ پریشر کا بھی شکار تھے۔

انہیں 18 دسمبر 2013 کو وطن واپس لایا گیا تھا۔ امریکا کی وفاقی عدالت کی طرف سے ابراہیم ادریس کی رہائی کے فیصلے پرامریکی حکومت نے عملدرآمد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اب دوبارہ میدان جنگ میں جانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں