استعفوں کا نوٹیفکیشن معطل: پی ٹی آئی ارکان کی اسمبلی واپسی ممکن؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنیچر کو پاکستان تحریک انصاف کے 11 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور ہونے سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹی فیکیشن معطل کردیا ہے جس سے  ان نشتسوں پر ملتوی  ہونے والی ضمنی الیکشن اب منسوخ ہونے اور پی ٹی آئی ارکان کی پارلیمنٹ واپسی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
اس سے قبل جمعرات کو اچانک الیکشن کمیشن نے ان نشستوں پر انتخابات  ملتوی کرنے کا اعلان  کیا تھا اور سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔
سنیچر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی آئی کے ایم این اے شکور شاد کی جانب سے اپنے استعفے کی منظوری کے خلاف درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ’28 اور 29 جولائی کو استعفوں کی منظوری اور ارکان اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے لیے جاری دونوں نوٹی فیکیشنز آئندہ سماعت تک معطل رہیں گے۔‘
مزید پڑھیں
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عبد الشکور شاد کی درخواست پر تفصیلی فیصلے میں عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت کے لیے 27 ستمبر کی تاریخ مقرر کردی ہے۔

استعفوں پر پی ٹی آئی رکن کا یو ٹرن

اس سال اپریل میں پی ٹی آئی چئیرمین اور اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد  کی کامیابی کے بعد تحریک انصاف نے اسمبلی کے پہلے اجلاس میں اپنے ارکان کے اجتماعی استعفوں کا اعلان کیا تھا۔
اس کے بعد تحریک انصاف کے ہی ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے جاتے جاتے 14 اپریل کو 123 ارکان  کے استعفوں کو قبول کر دیا تھا تاہم موجودہ سپیکر پرویز اشرف نے اس عمل کو غیر قانونی اور نامکمل قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ تمام ارکان کو انفرادی طور پر ان کے سامنے استعفوں کی تصدیق کے لیے پیش ہونا ہو گا۔
اس کے لیے انہوں نے نوٹس بھی جاری کیے تھے تاہم کوئی رکن ان کے سامنے پیش نہیں ہوا تھا۔

تحریک انصاف کے متعدد  رہنما کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ اسمبلی کی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ (فوٹو: اے پی پی)
تاہم 28 جولائی کو راجہ پرویز اشرف نے 11 ارکان کے استعفے منظور کرکے الیکشن کمیشن بھیجے تھے جس نے اگلے دن استعفوں کی منظوری کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا اور ان حلقوں میں ضمنی انتخابات کا شیڈول بھی جاری کیا تھا۔
تاہم گزشتہ ہفتے پی ٹی آئی رکن شکور شاد نے اپنے استعفے سے یو ٹرن لیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ ان کا استعفیٰ صرف پارٹی کو دیا گیا تھا تاکہ عمران خان سے اظہار یک جہتی ہو تاہم انہوں نے سپیکر کے سامنے پیش ہو کر دستخط نہیں کیے تھے لہذا انہیں اسمبلی کاروائی میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعہ کو ان کی درخواست منظور کر دی تھی اور مختصر آرڈر میں انہیں قومی اسمبلی کی کاروائی میں شریک ہونے کی اجازت دی تھی۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی علی محمد خان، فضل محمد خان، شوکت علی، فخر زمان خان کے استعفے منظور کیے گئے تھے۔
اس کے علاوہ اعجاز احمد شاہ ، جمیل احمد خان، محمد اکرم چیمہ، عبدالشکور شاد، فرخ حبیب، شیریں مزاری اور شاندانہ گلزار کے استعفے بھی منظور کیے گئے تھے۔
تحریری حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’درخواست گزار کے وکیل کے مطابق ان کے موکل کا مستعفی ہونے کا کبھی ارادہ نہیں تھا۔‘
واضح رہے کہ ان حلقوں پر 25 ستمبر کو ضمنی انتخابات کا اعلان کیا گیا تھا تاہم الیکشن کمیشن نے سیلاب کی صورت حال کے پیش نظر یہ انتخابات ملتوی کردیے تھے۔
سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے تحریک انصاف کے تمام استعفوں کی معطلی سے اب ضمنی الیکشن حتمی طور پر منسوخ ہو جائیں گے اور امید پیدا ہو گئی ہے کہ تحریک انصاف مختصر مدت کے لیے قومی اسمبلی کی کارروائی میں دوبارہ شریک ہو جائے۔
تاہم اس حوالے سے پارٹی رہنما متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ اسمبلی کی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اگر ایسا بھی ہوا تو بھی استعفوں کی واپسی سے کسی حد تک سیاسی استحکام کی فضا نظر آئے گی۔