اسحاق ڈار وزیر خزانہ بن گئے، ’پانامہ اور اس قسم کے ڈرامے ملک کو بہت مہنگے پڑتے ہیں‘

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر اسحاق ڈار نے بطور وفاقی وزیر خزانہ حلف اٹھا لیا ہے۔
بدھ کو ایوان صدر میں ہونے والی تقریب میں صدر عارف علوی نے اسحاق ڈار سے حلف لیا۔
حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر وزرا بھی موجود تھے۔
مزید پڑھیں

’روپے کو واپس اپنے مقام پر لائیں گے‘

اسلام آباد میں احتساب عدالت میں پیشی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستانی روپے کا مقام وہ نہیں جہاں یہ پہنچ گیا ہے، اس کو واپس لائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت آتے ہی میرا پاسپورٹ منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اسحاق دار کے مطابق ’ملک کے پانچ قیمتی سال ضائع کر دیے گئے ہیں۔‘ انہوں نے ملک کی معاشی صورت حال کو بدترین قرار دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار سابق وزیراعظم عمران خان کو ٹھہرایا۔
وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ’مس مینیجمنٹ کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کا جنازہ نکالا گیا۔‘
انہوں نے اپنے خلاف احتساب عدالت میں دائر کیس کو ’جعلی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس دائر کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’پانامہ اور اس قسم کے ڈرامے ملک کو بہت مہنگے پڑتے ہیں، خدا کے لیے بس کر دیں۔‘
اس پر صحافی کی جانب سے پوچھا گیا کہ آپ کا پیغام کس کے لیے ہے؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ’ان کا اشارہ عمران خان کی طرف ہے۔‘
کسی ڈیل کے تحت آمد کے الزام کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ’نہ ہم کسی ڈیل پر یقین رکھتے ہیں اور نہ کسی قسم کے ارینجمنٹ پر۔‘
اسحاق ڈار نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’وہ بتائیں کہ آر ٹی ایس کیسے بند ہوا تھا، الیکشن چوری کیسے ہوا تھا، وہ بتائیں کہ الیکشن ہائی جیک کر کے لوگوں کو کیسے لایا گیا تھا۔‘

بدھ کو ایوان صدر میں ہونے والی تقریب میں صدر عارف علوی نے اسحاق ڈار سے حلف لیا۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
مفتاح اسماعیل کی کارکردگی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر اسحاق ڈار نے کہا کہ ’انہوں نے بھرپور کوشش کی جس کی وجہ سے پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچا۔ مفتاح ہماری ٹیم کا حصہ تھے اور رہیں گے۔‘
وزارت خزانہ پہنچ کر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ’اب کسی کو کرنسی سے کھیلنے کی اجازت نہیں ہو گی اور ماضی طرح ہر چیز کو سنبھالیں گے۔‘
واضح رہے کہ منگل کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اسحاق ڈار سے بطور سینیٹر حلف لیا تھا۔
اسحاق ڈار کے سینیٹ میں داخل ہونے پر حکومتی اراکین نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا تھا۔
چیئرمین سینیٹ نے جب اسحاق ڈار کو سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھانے کے لیے مدعو کیا تو اپوزیشن میں شامل تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں نے شور شرابا کیا۔
خیال رہے کہ اتوار کو لندن میں پاکستان مسلم لیگ ن (پی ایم ایل این) کے قائد نواز شریف کی زیر صدارت پارٹی کا اہم اجلاس ہوا تھا جس میں مفتاح اسماعیل کی جگہ سینیٹر اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔
اس موقع پر سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے نواز شریف کو استعفیٰ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وزارت آپ کی امانت تھی، آپ نے ہی وزیر بنایا تھا۔ میں نے چار ماہ میں بھرپور صلاحیت کے ساتھ کام کیا اور پارٹی اور ملک سے وفاداری نبھائی۔‘

اسحاق ڈار کو مفتاح اسماعیل کی جگہ وزیر خزانہ مقرر کیا گیا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
اسحاق ڈار کے بطور وزیر خزانہ نامزدگی کے بعد ڈالر کی قدر میں بھی کمی دیکھی گئی تھی۔
بدھ کے روز کاروبار کے آغاز پر ایک امریکی ڈالر دو روپے کی کمی کے بعد 231 روپے کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
چوتھی مرتبہ وزیر خزانہ 
اسحاق ڈار نے وزارت کا حلف اٹھا کر پاکستان کے سب سے زیادہ مرتبہ وزیر خزانہ بننے کا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔
چوتھی مرتبہ وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھالنے والے مالیاتی و قتصادی امور کے ماہر سینیٹر اسحاق ڈار کا تعلق پنجاب سے ہے اور ان کا شمار مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنماؤں میں ہوتا ہے۔
اسحاق ڈار اپنے تعلیمی ریکارڈ اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی وجہ سے مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ اسحاق ڈار کی پہچان ایک ٹیکنوکریٹ سیاستدان کے طور پر ہے۔
انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور (اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی)، ہیلے کالج آف کامرس اور پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔
مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما پیچیدہ مالی، اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری اور صنعتی مسائل کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔

نواز شریف کے زیرصدارت اجلاس میں اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ نامزد کیا گیا۔ فوٹو: اے ایف پی
اسحاق ڈار اشتہاری کیوں ہوئے؟ 
قومی احتساب بیورو (نیب) نے سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے پانامہ کیس فیصلے کی روشنی میں اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔
پانامہ کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی حتمی رپورٹ میں کہا تھا کہ ’اسحاق ڈار کے اثاثوں میں بہت کم عرصے کے دوران 91 گنا اضافہ ہوا اور وہ 90 لاکھ روپے سے بڑھ کر 83 کروڑ 10 لاکھ روپے تک جا پہنچے۔‘
اس ریفرنس میں ایک دو بار عدالت میں پیشی کے بعد اسحاق ڈار اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ لندن گئے اور واپس نہ لوٹے۔ متعدد بار پیش ہونے کے احکامات کے بعد عدالت نے انھیں دسمبر 2017 میں اشتہاری قرار دے دیا تھا۔