اسد طورکیس،ایف آئی اےلوگوں کوہراساں نہیں کرسکتا،اسلام آبادہائیکورٹ

IHC

فائل فوٹو

اسلام آباد ہائیکورٹ نے صحافی اسد طور کی ایف آئی اے طلبی کے خلاف درخواست پر جواب طلب کرتےہوئے واضح کیا ہے کہ ایف آئی اے لوگوں کو ہراساں نہیں کرسکتا اور اس کیس کو ٹیسٹ کیس بنا کر دیکھا جائے گا کہ ایف آئی اے کیسے کام کرتا ہے۔

بدھ کواسلام آباد ہائی کورٹ میں اسد طور کی ایف آئی اے طلبی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ  نے ایف آئی اے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا ایف آئی اے نے اسد طور سے متعلق کوئی تفتیش کی؟۔ ایف آئی اے کے پاس بس شکایت آئے اور یہ نوٹس کردیتے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ شکایت درج کرنے والے کو بلائے بغیر مخالف فریق کو کیسے نوٹس ہوسکتا ہے؟

ایف آئی اے کے وکیل نے بتایا کہ یہ راولپنڈی کا کیس ہے اور ہم نے سائبرکرائم اور ضابطہ فوجداری کے تحت نوٹس کیا۔عدالت میں اسد طور کے خلاف شکایت کنندہ شفا یوسف زئی بھی پیش ہوئیں اور موقف دیا کہ ہماری شکایت پرایف آئی اے نے کارروائی ہی روک رکھی ہے۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ شفا یوسف زئی کی شکایت کا ایف آئی اے پہلے مکمل جائزہ لے اور اگر مطمئن ہو کہ کارروائی بنتی ہے تو آئندہ سماعت پر آگاہ کرے۔اس کیس کو ٹیسٹ کیس بنا کر دیکھتے ہیں کہ ایف آئی اے کیسے کام کرتا ہے۔

عدالت نے ایف آئی اے کے سامنے سوالات رکھ کر  20 جون کو جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل، پاکستان بار کونسل سے بھی معاونت طلب کرلی ہے۔

منگل کو قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صحافی اسد طور پر حملے اور تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے اس واقعے کو آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیا۔

متعلقہ خبریں