اسد طور پرحملہ آزادی صحافت پرحملہ ہے، بلاول بھٹو

فوٹو: ٹوئٹر

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کی کمیٹی چیرمین کے طور پرصحافی اسد طور پر حملے کا نوٹس لےلیا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی صحافی اسد طور کے گھر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ایک اور صحافی پر دارالحکومت میں حملہ کیاگیا، اسد طور پر حملہ آزادی صحافت پر حملہ ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کسی صحافی پر گولی کسی کےگھر حملہ کسی کو اغواء کیا جاتا ہے جس نےبھی اسد طور پر یہ حملہ کیا یہ اسکی بزدلی کی نشانی ہے۔ آپ اسد طور کی ایک تحریر بھی برداشت نہیں کرسکتے۔

بلاول بھٹو نے صحافی تنظیموں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) سمیت دیگر یونینز ہمارا ساتھ دیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ان افراد کو جب تک کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا تب تک کسی کو یقین نہیں آئےگا کہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے ہے، وزیراعظم کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں صحافیوں کو برطانوی صحافیوں سے زیادہ تحفظ ہے۔ اگر صحافیوں کا تحفظ نہیں ہوگا تو کسی کا تحفظ نہیں ہوگا۔

اسد طور کیس: حقیت کےقریب پہنچ گئے، شیخ رشید

چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ ہم بطور جماعت صحافی اسد طور پر حملے کی مذمت کرتے ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر چلنے والے جھوٹے اور پروپیگنڈے کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں۔ صحافیوں پر حملوں کے معاملہ پر اپوزیشن حکومت اور اتحادیوں سمیت سب کو ایک پیج پر ہونا چاہیے، تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے ہمارے دور میں بھی دہشتگردوں کا صحافیوں پر پریشر تھا۔

متعلقہ خبریں