اسد طور پر حملہ کرنے والے پہلے بھی اس عمارت میں آتے تھے: شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ صحافی اسد طور کے کیس میں حقیقت کے قریب پہنچ جائیں گے۔
اسلام آباد میں منگل کے روز پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ نادرا، ایف آئی اے اور پولیس مل کر تحقیقات کر رہی ہے، فنگر پرنٹس کی کل تک نشاندہی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان تین لوگوں تک اگلے تین چار دن میں نہ پہنچ سکے تو پھر ان کا اشتہار دیں گے۔
مزید پڑھیں
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں نامعلوم افراد نے صحافی اسد علی طور کو مبینہ طور پر ان کے گھر میں گھس کر تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔
وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ اپارٹمنٹ بلڈنگ کے رسیپشن پر موجود شخص نے اپنے بیان میں کہا کہ ’حملہ آوروں کو اس لیے نہیں روکا کیونکہ یہ پہلے بھی آتے تھے۔‘
’ایک شخص کے بارے میں میری رائے ہے کہ اس تک پہنچ جائیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ آئی جی، ایف آئی اور نادرا سے بھی بات کی ہے، حملہ آوروں میں سے ایک شخص کی شناخت کے قریب ہیں۔
’ان کو پکڑنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ بعض لوگ ہمارے حساس اداروں کو بلاوجہ نشانہ بنا رہے ہیں، اپنے غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے۔‘ 

وزیر داخلہ کے مطابق حملہ آوروں میں سے ایک کی شناخت جلد ہو جائے گی۔ 
وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر ان ملزمان کو پکڑنے میں کامیاب ہو گئے تو ان لوگوں کے منہ بھی بند ہو جائیں گے جو پاکستان کے حساس اداروں کو مورد الزام ٹھہرا کر اپنی کمپنی کی بلاوجہ مشہوری کرتے ہیں، انہیں احساس نہیں ہے کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے امیج کو کتنا نقصان پہنچتا ہے۔
شیخ رشید سے جب جیو ٹی وی چینل کے صحافی حامد میر کو شو نہ کرنے کی اجازت پر سوال کیا گیا تو وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’میں نے تو نہیں بند کیا، پچھلے کئی سالوں سے میری حامد میر سے نہ سلام دعا ہے اور نہ ہی میں ان کے پروگرام میں گیا ہوں۔‘
سائبر کرائم کیسز کے حوالے سے وزیر داخلہ نے کہا کہ پچھلے سال 94 لاکھ سائبر کرائم رپورٹ ہوئے تھے جبکہ ان کے دور میں 36 ہزار ہوئے ہیں، جس میں سے پانچ ہزار 355 کی انکوائری کی ہے جبکہ 399 کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ سائبر کرائم ونگ اور نادرا میں مزید بھرتیاں اور نئے آلات کے اضافے سے بہتری لانا چاہتے ہیں