اسد عمر کی فائزر ویکسین کے حوالے سے وضاحت

وفاقی وزیر اسد عمر نے بتایا ہے کہ فائزر ویکسین کی تعداد محدود ہے اور یہ صرف عازمین حج اور ورک ویزا رکھنے والوں کو لگائی جائے گی۔

جمعرات کو اسلام آباد میں اسد عمر نے نجی شاپنگ مال میں کرونا ویکسینیشن سینٹر کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کرونا ویکسینیشن سینٹرز کی تعداد بڑھنے سے اسپتالوں میں دباؤ کم ہوا ہے۔ اس وقت ملک بھر ميں 1700 ويکسینيشن سينٹرز قائم ہيں ۔ تاجر برادری سے کہا تھا کہ ویکسینیشن میں ہماری مدد کریں کیوں کہ کرونا کہ وجہ سے کاروباری طبقہ بھی متاثر ہوا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ویکسینیشن کے مرحلے میں اسلام آباد پہلے نمبر پر ہے اور امید ہے کہ باقی شہر بھی اسلام آباد سے آگے بڑھیں گے۔ حکومت بندشیں ختم کرنا چاہتی ہے، تاہم ویکسی نیشن کے بغیر بندشیں ختم کرنا ممکن نہیں۔اس وقت کوشش ہے کہ ویکسینیشن کا عمل تیزی سے مکمل ہو۔ رمضان میں کاروبار بند کرنے سے بیماری کا پھیلاؤ روکا گیا۔

اسد عمر نے مزید بتایا کہ ہر ملک پسند کی ویکسین لگائے گا تو اس سے پوری دنیا کو نقصان ہوگا۔ فائزر ویکسین کی تعداد محدود ہے اور یہ عازمین حج اور ورک ویزا رکھنے والوں کو لگائیں گے۔اس کے علاوہ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والوں کو بھی فائزر ویکسین لگائی جائے گی۔ پاک ویک ویکسین عوام کو لگ رہی ہے۔

اس کےعلاوہ جمعرات کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی خریداری تقریبا 1 ارب ڈالر کے چوتھائی تک پہنچ چکی ہے۔ ویکسینیشن ڈرائیو میں تیزی وفاق کی بھاری سرمایہ کاری سے ہوئی ہے۔ اگلے سال مزید ویکسینیشن کی خریداری پر زیادہ خرچ کریں گے۔

واضح رہے کہ پنجاب کو روزانہ4  لاکھ20 ہزار کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کا ٹارگٹ مل گیا ہے۔ پنجاب میں اب تک 42 لاکھ سے زائد افراد کو کرونا ویکسین لگائی جاچکی ہے۔ صوبے میں 6 کروڑ 28 لاکھ سے زائد افراد کوویکسین لگناباقی ہے۔پنجاب میں 18 سال سے زائد عمر کی صرف6فیصد آبادی کو ویکسین لگی ہے۔

پیر کو اسد عمر نے ٹویٹ کرتےہوئے بتایا تھا کہ جمعرات 3 جون سے 18 سال سے زائد عمر کے افراد کی کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسینیشن شروع ہوجائے گی۔ یہ فیصلہ پیر کو این سی او سی کے اجلاس میں کیا گیا ۔ اس اقدام کے بعد تمام عمر کے افراد کی ویکسینیشن کا عمل شروع ہوجائے گا۔ اسد عمر نے زور دیا کہ جلد سے جلد رجسٹریشن کروائیں اور حفاظتی تدابیر پر عمل کریں۔

متعلقہ خبریں