اسرائیلی اخبار کی خبر کسی پاکستانی کی سازش ہے،زلفی بخاری

رہنما تحریک انصاف زلفی بخاری نے اپنے اسرائیل جانے یا وہاں کے کسی وفد سے ملنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی اخبار کا دعویٰ ہے کہ وہ خبر اسے اسلام آباد سے موصول ہوئی جس کا مطلب ہے کہ یہاں بیٹھے کسی شخص نے یہ پروپیگنڈا کیا۔
سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ ایک سال پہلے بھی ان کے اسرائیل جانے کی وہ خبر لندن کے ایک اخبار میں چھپی تھی جسے قانونی نوٹس بھیجا تھا جس پر اسے وہ خبر ہٹانی پڑی۔
انہوں نے کہا کہ یہ بلکل جھوٹی خبر ہے اور نیوز پیپرز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ انہیں اسلام آباد سے کسی شخص نے دی تھی۔
زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ اس بات کو بھی دیکھنی کی ضرورت ہے کہ وہ کون ہیں جس کے لنکس اسرائیلی اخبارات سے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے دونوں پاسپورٹس پر کبھی اسرائیل کا ویزہ نہیں لگا میرا ٹریک ریکارڈ ہے میں نے ہمیشہ اسرائیل کی مخالفت کی ہے اور فلسطین کو سپورٹ کیا ہے۔
خبر پر بلاول بھٹو کے تبصرے پر زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ یہ مضحکہ خیز خبر ہے اور اس پر بلاول بھٹو جیسے لوگ ہی تبصرے کرسکتے ہیں۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما پیپلزپارٹی مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ کوئی بھی اپنے گناہ کو تسلیم نہیں کرتا زلفی بخاری کی تردید کے باوجود عالمی سطح پر سنجیدہ سوالات اٹھے ہیں جس کی انکوائری ہونی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ اگر خبر غلط ہے تو انہیں عالمی عدالتوں میں کیس کرنا چاہیے۔
پاک امریکا تعلقات اور افغانستان کی حوالے سے موجودہ پالیسی سے متعلق مرتضیٰ وباب کا کہنا تھا کہ یہ کام پارلیمنٹ کا ہے اور اس پر پارلیمنٹ میں ہی فیصلہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے اپنی حکمت عملی کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے اور معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔
رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ آج جو سندھ اسمبلی میں ہوا وہ افسوسناک اور شرمناک تھا اور یہ قومی اسمبلی کے واقعات کا تسلسل ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں چارپائی لانے والے تحریک انصاف کے اراکین تھے اور اسٹاف کے منع کرنے پر ان کو دھمکیاں بھی دی گئی تھی۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ ن زبیرعمر کا کہنا تھا کہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا موقف ہمیشہ سے بہت واضح رہا ہے۔
اسرائیلی اخبار کے خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے زبیر عمر کا کہنا تھا کہ عمران خان زلفی بخاری کو کیوں بھیجیں گے جس کا خارجہ امور کا کوئی تجربہ نہیں ہے اس لیے اس اسٹوری میں دم نہیں ہے۔
زبیرعمر کا کہنا تھا کہ یہ داخلی مسئلہ نہیں ہے اس لیے ہمیں اس مسئلے کو عالمی فورمز پر اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان جنگ کی بھاری قیمت چکائی ہے ماضی میں فیصلے کے وقت ڈکٹیٹرشپ تھی مگر اس بار جمہوری پارلیمنٹ موجود ہے لہٰذا اس حوالے سے سیاسی لیڈرشپ کو اعتماد میں لے کر کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔
زبیرعمر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کم ترین سطح پر کیا اس میں بھی بھارت کا ہاتھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس کے دو پہلو تھے ایک یہ کہ ہمیں گھر کوٹھیک کرنا تھا مگر سارے لوگ ایک پہلو کے پیچھے پڑگئے کہ میسنجر کون تھا۔
زبیر عمر کا کہنا تھا کہ ہم نے ماضی میں دہشت گرد آرگنائزیشن کو پالا ہوا تھا، دنیا یہ نہیں دیکھتی کہ کون کیا کررہا ہے وہ کہِتی ہے ایکشن لو۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے حوالے سے وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ ہمارا موقف وہی ہے جو قائداعظم کا تھا۔
فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ حالیہ فلسطین اسرائیل تنازعے پر بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا جس کی فلسطینی حکام نے بھی تعریف کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی اخبار نے آج پرانی خبر کو نئے طریقے سے لانچ کرنے کی کوشش کی جو بے بنیاد ہے۔
فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے سابقہ وزیر کہہ چکے ہیں کہ وہ نوازشریف کے کہنے پر اسرائیل گئے تھے اور اسرائیلی حکام سے مذاکرات بھی کیے تھے اس لیے یہ لوگ تنقید سے پہلے اپنا ماضی ضرور دیکھیں۔
وزیرمملکت اطلاعات کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے ان کیمرہ اجلاس میں پاک امریکا تعلقات اور افغانستان کی موجودہ صورتحال پر سیاسی قائدین کو بریفنگ دی جائے گی جس میں عسکری حکام بھی شرکت کریں گے۔
فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ دنیا کو یہ دیکھنا ہوگا کہ فیٹف ٹیکلنیکل فورم ہے یا سیاسی ہماری پیش رفت کو دنیا کو تسلیم کرلینی چاہیے تھی۔

متعلقہ خبریں