اسرائیل کیساتھ مشترکا فوجی مشقیں نہیں کر رہے،پاکستان

فائل فوٹو

ترجمان دفتر خارجہ نے میڈیا میں گردش کرتی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ کوئی مشترکا فوجی مشقیں نہیں کر رہا۔ بلکہ پاکستان بحیثیت مبصر اس میں شرکت کرے گا۔

جمعرات کے روز ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے پاک اسرائیل مشترکا فوجی مشقوں سے متعلق اپنے ردعمل میں کہا کہ پاکستان مشترکا نیول مشقوں سی بریز بطور مبصر شرکت کر رہا ہے۔ پاکستان کی شرکت کا ہرگز مطلب نہیں کہ اسرائیل پر پالیسی تبدیل ہوگئی ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مسئلہ فلسطین اٹھاتا رہا ہے۔ فلسطین کا دارالحکومت القدس شریف ہونا چاہیے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ اسرائیل 1967 سے پہلے کی پوزیشن پر سرحدوں کو لائے۔ پاکستان واحد ملک ہے جس نے اسرائیل سے تعلقات کو مسئلہ فلسطین کے حل سے مشروط کیا ہے۔ یہ حل یروشلم کے فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر قابل عمل ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان، ترکی اور متحدہ عرب امارات کی اسرائیلی فوج کے ساتھ مشترکا جنگی مشقیں جاری ہے۔ جنگی مشقوں میں پاکستان کی بحریہ شرکت کررہی ہے، جنگی مشقیں 28 جون سے 10 جولائی تک جاری رہیں گی۔

یہ مشقیں بلیک سی میں ہو رہی ہیں۔ ان بحری مشقوں میں پاکستان اور اسرائیل کے علاوہ دنیا کے دیگر براعظموں سے 32 ممالک کی افواج شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں