’اسلامی نظام‘ ہی افغانستان میں امن اور خواتین کے حقوق کا واحد راستہ ہے، طالبان

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ وہ امن مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور افغانستان میں ’حقیقی اسلامی نظام‘ لانا چاہتے ہیں جس میں علاقائی روایات اور مذہب کے مطابق خواتین کو حقوق دیے جائیں گے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کو قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا غنی برادر کی طرف سے جاری ہونے والا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قطر میں ہونے والے مزاکرات سست روی کا شکار ہیں اور افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا سے قبل تشدد میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔  
حکام نے مذاکرات کی سست روی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان نے ابھی تک تحریری طور پر کوئی دستاویز پیش نہیں کی ہے جسے بامعنی مذاکرات کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔
مزید پڑھیں
 ملا غنی برادر نے کہا کہ ’دنیا اور افغانوں کے غیرملکی افواج کے بعد نظام حکومت کے بارے میں سوالات ہیں، اور یہ مسائل دوحہ میں مذاکرات کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔‘
’ایک حقیقی اسلامی نظام افغانوں کے تمام مسائل کا سب سے بہتر حل ہے۔ ہمارا مذاکرات میں شرکت کرنا اور اس کی حمایت کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم باہمی بات چیت سے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’خواتین اور اقلیت کا تحفظ کیا جائے گا، اور سفارت کاروں اور این جی اوز بھی محفوظ طریقے سے کام کر سکیں گے۔‘
ملا غنی برادر نے کہا کہ ’ہم اس بات کی ذمہ داری لیتے ہیں کہ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں اور افغان روایات کو سامنے رکھتے ہوئے ملک میں شہریوں کے تمام حقوق کا تحفظ کیا جائے گا، چاہے وہ مرد ہوں یا عورتیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’خواتین کو تعلیم حاصل کرنے اور کام کرنے کی سہولیات مہیا کی جائیں گی۔‘

سنہ 2001 میں افغانستان میں امریکی حملے سے پہلے طالبان نے شرعی نظام نافذ کر رکھا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
تاہم یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ طالبان خواتین کو عوامی سطح پر کوئی کردار ادا کرنے دیں گے یا نہیں اور دفاتر اور سکولوں کو جنس کے لحاظ سے تقسیم کیا جائے گا یا نہیں۔
مئی میں امریکی انٹیلیجنس کے تجزیہ کاروں نے کہا تھا کہ اگر طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے تو خواتین کے حقوق کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کو ’واپس لے لیں گے۔‘
سنہ 2001 میں افغانستان میں امریکی حملے سے پہلے طالبان نے شرعی نظام نافذ کر رکھا تھا جس کے تحت لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت نہیں تھی اور خواتین کو نہ گھر سے باہر کام کرنے کی اجازت تھی اور نہ ہی وہ مرد رشتہ دار کے بغیر باہر جا سکتی تھیں۔