اسلام آبادہائیکورٹ نےخورشید شاہ کی پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی درخواست نمٹادی

khursheed-shah-2

فوٹو: خورشید شاہ/فیس بک

اسلام آباد ہائیکورٹ میں خورشید شاہ کی پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی درخواست نمٹا دی گئی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے بتایا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 69 عدالت کو اسپیکر قومی اسمبلی کو ڈائریکشن دینے سے روکتا ہے۔ عدالت امید کرتی ہے کہ اسپیکر خورشید شاہ کے حلقہ کے عوام کے مفاد میں خود بہتر فیصلہ کرینگے۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرعدالت کے پاس اختیار ہوتا بھی توعدالت تحمل کا مظاہرہ کرتی اور اسپیکر کو ہدایت جاری کرنے سے پارلیمنٹ کی بالادستی پر حرف آئے گا۔

خورشید شاہ کی پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پراسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔خورشید شاہ کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پروڈکشن آرڈرجاری کرنے سے متعلق رول 108 کے تحت اختیار اسپیکر قومی اسمبلی کا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ  رول 108 کے اختیار کےخلاف رٹ جاری نہیں ہوسکتی ہے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت اسپیکر قومی اسمبلی کو کوئی ہدایت جاری نہیں کرسکتی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وکیل فاروق ایچ نائیک سے استفسار کیا کہ کیا آپ اسپیکر کے پاس گئے ہیں ؟۔ آپ نےاپوزیشن لیڈر کے ذریعے معاملہ اسپیکر کے سامنے رکھنا ہے،عدالت کی مداخلت سے پارلیمنٹ کی بے توقیری ہوگی اور اس ہی لیےآئین نے روکا ہے۔

اطہر من اللہ نے مزید ریمارکس دئیے کہ ہم اس کی تہہ میں بھی نہیں جانا چاہتے کیوں کہ اس کورٹ کو پارلیمنٹ کا بہت احترام ہے۔  فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آرٹیکل 69 کے تحت استثنی کا معاملہ ڈویژن بینچ کے سامنے ہے۔