اسلام آباد: حالیہ سیلاب کی ذمہ دار تعمیرات گرانے کافیصلہ

سی ڈی اے نے اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون اور ملحقہ علاقوں میں برساتی نالے پر بنی تعمیرات مسمار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

اتھارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی تعمیرات کی نشاندہی کرکے انہیں سیل کیا جائے گا اور پھر اگلے مرحلے میں وہ مسمار کردی جائیں گی۔

یہ فیصلہ بدھ کے روز بارش کے بعد اسلام آباد کے کچھ علاقوں میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔

پہلے اس شدید سیلاب کو بادل پھٹنے کا نتیجہ قرار دیا جارہا تھا تاہم بعد میں پتہ چلا کہ اس کی اصل وجہ قدرتی برساتی نالے کی گزرگاہ پر غیرقانونی تعمیرات کے ذریعے رخنہ بازی ہے۔

شہر میں سیلابی صورتحال کے پیدا ہونے کے فوری بعد ڈپٹی کمشنر اسلام آباد محمد حمزہ شفاقت نے اسے بادل کے پھٹنے کی وجہ سے شدید بارش کا نتیجہ قرار دیا تھا تاہم بعد ازاں محمکہ موسمیات نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بادل نہیں پھٹا تھا بلکہ بارش اسی سسٹم کے تحت ہوئی جس کی پیشگوئی کردی گئی تھی۔

سی ڈی اے کے ایک اعلیٰ افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ سی ڈی اے کے اس سیکٹر میں بہت سی ایسی معروف ہاؤسنگ اسکیمیں ہیں جن کے نیچے سے برساتی نالا گزرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس نالے کے ساتھ کی گئی کچھ تعمیرات کے باعث کچھ مقامات پر نالے کی گزرگاہ بہت پتلی ہوگئی ہے جس کی وجہ سے نالے کے بہاؤ میں رکاوٹیں حائل ہوئی ہیں جو علاقے میں سیلاب کا سبب بنیں۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز اسلام آباد میں شدید بارش کے بعد خصوصاً سیکٹر ای الیون میں ایک سیلاب سا آگیا تھا جو کئی گاڑیوں کو بہا لے جانے کے علاوہ 2 قیمتی جانوں اور لوگوں کے مال و اسباب کے نقصان کا بھی باعث بنا تھا۔ اس صورتحال کے بعد شہر کی انتظامیہ کو ریسکیو آپریشن کے لیے فوج کی مدد لینی پڑگئی تھی۔

سی ڈی اے کے افسر کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے کچھ علاقوں میں شدید سیلاب آجانے کے پیش نظر یہ فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ قدرتی برساتی نالے پر کھڑی کی گئیں تمام تعمیرات کو گرا دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ایک تفصیلی سروے کیا جائے گا اور ایسی تمام تعمیرات کو پہلے سیل اور پھر مسمار کردیا جائے گا۔

رپورٹ : قدیر تنولی

متعلقہ خبریں