اسلام آباد: کچہری حملےپروڈیشل کمیشن بنانے کی استدعا مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کی جانب سے کچہری حملے پرجوڈیشل کمیشن بنانے کی استدعا مسترد کردی گئی۔چیف جسٹس نےکہا کہ جوڈیشل کمیشن نہیں جےآئی ٹی ہی کام کرے گی کیونکہ معاملہ صاف ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہائیکورٹ حملے میں ملوث وکلاء کی گرفتاریوں کےکیس پر سماعت ہوئی۔ ہڑتال کی کال دینے والے سیکرٹری بار سہیل چوہدری خود عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت کورضوان عباسی ایڈوکیٹ نےبتایا کہ میرے ایسوسی ایٹ کوبلاوجہ وجہ مقدمے میں نامزد کیا گیا۔ میری تجویز ہے کہ اس معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنا دیں۔

چیف جسٹس نےریمارکس دئیے کہ سب معاملات بہت صاف ہیں اور کسی کمیشن کی ضرورت نہیں۔آپ کو پتہ ہے کہ وہ تمام وکلاء منصوبہ بندی سےحملہ کرنے آئے۔کیا یہاں پرآپ اب ان لوگوں کا دفاع کریں گے۔صرف مجھےنہیں بلکہ 8 اوردیگرججوں کو یرغمال بنا کررکھا گیا۔عمارت کےباہر میڈیا والوں کو وکلاء نےدھمکایا اوران کی ویڈیوز ڈیلیٹ کی گئیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزید ریمارکس دئیے کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے کسی وکیل کا نام میں نے پولیس کو نہیں دیا اورکسی وکیل کا نام خود دینا بھی نہیں چاہتا۔ یہ بار کا ہی کام ہے کہ وہی شناخت کرے کہ کون کون ملوث تھا۔

متعلقہ خبریں