اسلام آباد ہائیکورٹ پرحملے: جےآئی ٹی تشکیل دینےکا فیصلہ

پیر کو پیشرفت رپورٹ طلب

اسلام آباد ہائی کورٹ پر وکلا کے حملے کی تحقیقات کے لیےجے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پیر کوپیشرفت رپورٹ طلب کرلی ہے۔

وکلا کی پکڑ دھکڑ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ڈپٹی کمشنر خود عدالت میں پیش ہوئے۔ہائیکورٹ کےچیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئےکہ حملہ کرنے والے آدھے سے زیادہ وکیلوں کوخود جانتا ہوں لیکن بہتر ہوگاکہ اشتعال دلانے والوں کی نشاندہی وکلا تنظیمیں خود کریں،ہم پروکلا بحالی تحریک کے 90 شہدا کا قرض ہے۔

اسلام آبادہائی کورٹ نے 8 فروری کو اسلام آباد ہائیکورٹ پروکیلوں کا حملہ عدلیہ پر بدنما داغ قرار دیا۔عدالت نے حکم دیا کہ اس واقعے کا کوئی ذمہ دار بچ نہ پائےاورتمام حقائق سامنے لائے جائیں۔ اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ نے ہائیکورٹ کوجامع تحقیقات کا یقین دلایا ہے۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے جے آئی ٹی کوبار کونسلز سے بھی معلومات لینے کا حکم دیا اورریمارکس دیئے کہ پہلے دن بار کونسلزآگےآتیں تو حالات یہاں نہ پہنچتے۔

عدالت کی جانب سےموجودہ حکومت اور وزیراعطم عمران خان کی بھی تعریف کی گئی اور ریمارکس دئیے گئے کہ عدالت موجودہ حکومت بالخصوص وزیراعطم کی کاوشوں کو سراہتی ہے جنہوں نے کچہری کیلئے کمپلیکس کی فاسٹ ٹریک بنیادوں پر منظوری دی۔چیف جسٹس نےڈی سی اسلام آباد کومخاطب کرتے ہوئےاستفسار کیا کہ سنا ہے کہ کچھ وکلاآج احتجاج کے لیے ڈی چوک جا رہے ہیں، انہیں تحریری طور پر بتائیں کہ حکومت آپ کا مسئلہ پہلے ہی حل کرچکی ہے۔

متعلقہ خبریں