اسلام آباد ہائیکورٹ پردھاوا،گرفتاروکلا کی ہائیکورٹ سےہی ضمانت کی درخواست

Islamabad-high-court

اسلام آباد ہائیکورٹ پردھاوا بولنے والے4 گرفتاروکلاء ظفر وڑائچ ، نوید ملک، نازیہ بی بی اور شعیب شیخ ایڈووکیٹ نےانسداد دہشتگردی عدالت سے ضمانت کی درخواستیں مسترد ہونے پرہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ ضمانتی مچلکےدینے کو تیار ہیں،فرار نہیں ہوں گے۔ٹرائل مکمل ہونے تک ضمانت پر رہا کیا جائے۔وکلاء نے موقف دیا کہ پولیس نےہميں غلط ایف آئی آرمیں نامزد کیا۔تفتیش بھی مکمل ہوچکی ہے اورانہیں گرفتاری کے بعد سے جیل میں قید رکھا گیا ہے،بےقصورہونےکےشک کا فائدہ دیتے ہوئے ضمانت پررہا کیا جائے۔

ہائیکورٹ پر دھاوے کا کیس،وکلا کی گرفتاریاں جاری

دوسری جانب انسداد دہشتگردی عدالت نے وکلاء کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستیں مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہائیکورٹ پر حملہ ایک سنگین الزام ہے، ملزمان کیخلاف سی سی ٹی وی شواہد موجود ہیں اس لئےضمانت جیسی رعایت نہیں دی جاسکتی۔

غیرقانونی چیمبرز گرائے جانے کے خلاف احتجاج کےنام پراسلام آباد ہائیکورٹ پر حملہ اور توڑ پھوڑ کرنے والے 32 وکلاء کے کیسز کی سماعت کیلئے5 بینچ تشکیل دےدیاگیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس سے جاری کاز لسٹ کے مطابق وکلاء کیخلاف توہین عدالت کیسز کی سماعت 5 مختلف بینچ کریں گے۔ احسن مجید گجر سمیت دیگر کیخلاف توہین عدالت نوٹس کی سماعت جسٹس عامر فاروق، کلثوم رفیق سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت نوٹس کی سماعت جسٹس فیاض احمد انجم جندران، مظہر جاوید کے خلاف توہین عدالت نوٹس کی سماعت جسٹس غلام اعظم قمبرانی، خالد محمود کے خلاف توہین عدالت نوٹس کی سماعت جسٹس طارق جہانگیری، راجہ امجد سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت نوٹس کی سماعت جسٹس بابر ستار کریں گے۔

متعلقہ خبریں