اسلام آباد: امام مسجد پر فائرنگ کا مقدمہ درج، تفتیش کیلئے ٹیمیں تشکیل

ڈی سی اسلام آباد کے مظاہرین سے مذاکرات

اسلام آباد کے علاقے بارہ کہو ميں فائرنگ سے قتل امام مسجد مفتی اکرام، تيرہ سالہ بيٹا اور شاگرد کے قتل پر جمعیت علمائے اسلام ف کی جانب سے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا گیا، جب کہ فائرنگ کا مقدمہ بارہ کہو تھانے میں درج کرلیا گیا ہے۔

لواحقین کی جانب سے مری روڈ پر لاشیں رکھ کر احتجاج کیا گیا، جب کہ اس دوران سڑک بھی بلاک کردی گئی۔ مظاہرین سے مذاکرات کیلئے ڈی سی اسلام آباد بھی بارہ کہو پہنچے، جس کے بعد مظاہرین نے پولیس کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کیا۔

ایس ایس پی آپریشن بھی ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے ہمراہ مظاہرین سے مذاکرات میں موجود رہے۔

پولیس کی جانب سے بارہ کہو کے علاقے میں قتل کی تحقیقات کیلئے 2 تفتیشی ٹيميں تشکیل دے دی گئی ہیں، جب کہ واقعہ کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات بھی جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق لواحقین کی جانب سے مقدمے کے اندراج کیلئے درخواست موصول ہوئی تھی۔ جس کے بعد واقعہ کا مقدمہ بارہ کہو کے اسٹیشن میں درج کیا گیا ہے۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشنز کی سربراہی میں تفتیشی ٹیمیں کام کریں گی۔ جب کہ ڈی آئی جی آپریشنز افضال احمد کوثر نے بھی واقعہ کی رپورٹ 24 گھنٹے ميں طلب کرلی۔

پوليس ترجمان کے مطابق سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

دوسری جانب مقتولین کی لاشیں پولی کلینک اسپتال سے ایدھی سینٹر منتقل کر دی گئیں، جہاں سے غسل دینے کے بعد لاشوں کو بہارہ کہو منتقل کیا گیا۔ قبل ازیں لواحقین بارہ کہو کے مقام پر سرینگر ہائی وے احتجاجاً بلاک کی۔

واضح رہے کہ نامعلوم ملزمان نے ہفتہ 27 فروری کی رات بارہ کہو کے علاقے میں مقامی مسجد کے خطیب مفتی اکرام اللہ کے گھر پر فائرنگ کی۔ جس سے ان کا 13 سالہ بيٹا، شاگرد اور وہ خود جاں بحق ہوگئے تھے۔

متعلقہ خبریں