اسلام آباد سے سینیٹر افنان اللہ خان کے برادر نسبتی اغوا، مقدمہ درج

پولیس کے مطابق ملزمان کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹریس کیا جا رہا ہے۔ فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد پولیس کے سربراہ ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ خان کے برادر نسبتی کے اغوا کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز کو مغوی کی جلد بحفاظت بازیابی کی ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیں
اتوار کو اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ تھانہ شالیمار میں مغوی کے بھائی کی درخواست پر فوری مقدمہ درج کر لیا گیا۔
بیان کے مطابق ملزمان کو سی سی ٹی وی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تلاش کیا جا رہا ہے۔
قبل ازیں سینیٹر  ڈاکٹر افنان اللہ خان نے اپنے برادر نسبتی کے اغوا کے حوالے سے ٹوئٹر پر تفصیلات شیئر کی تھیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ ’گزشتہ شب میرے برادر نسبتی طلحہ اسد کو ساڑھے 8 بجے سیکٹر ایف الیون ٹو کی مسجد حدیبیہ کے قریب سے اغوا کیا گیا۔‘
ڈاکٹر افنان اللہ نے کہا تھا کہ ’سی سی ٹی  فوٹیج سے معلوم ہوا  کہ طلحہ اسد کو کالے شیشے والی ٹیوٹا ہائی ایس میں اٹھایا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’طلحہ اسد کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں اور اُن کی آخری موبائل لوکیشن گولڑہ شریف کی ہے۔‘
مغوی طلحہ اسد کے بھائی محمد ہاشم اسد نے تھانہ شالیمار میں مقدمے کے اندراج کے لیے دی گئی درخواست میں لکھا کہ اُن کے بھائی اپنے تین بیٹوں کے ہمراہ نماز پڑھ کر رات ساڑھے آٹھ بجے مسجد سے نکلے تھے جب اُن کو اغوا کیا گیا۔
پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 365 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
خیال رہے کہ جمعے کو وزیراعظم شہباز شریف لاپتہ افراد کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے تھے جہاں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد سے شہریوں کو لاپتہ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔