اسلام آباد: پہلی خوراک کے لیے سائنو فارم لگنا بند، جن کو پیغام نہیں ملا وہ کیا کریں؟

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تقریبا ایک چوتھائی آبادی کو ویکسین لگ چکی ہے تاہم اب ویکسین کی پہلی خوراک کے لیے آنے والوں کو سائنو فارم کے بجائے سائنو ویک ، کین سائنو یا ایسٹرا زینکا لگائی جا رہی ہے۔
اسلام آباد کے ڈسٹرک ہیلتھ آفیسر ضعیم ضیا نے اردو نیوز کو بتایا کہ اسلام آباد میں سائنو فارم اب صرف ان لوگوں کو لگ رہی ہے جن کو پہلی خوراک سائنو فارم کی ہی لگ چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب جو لوگ پہلی ڈوز کے لیے آ رہے ہیں ان کو ہم  کین سائنو اور سائنو ویک لگا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کی وجہ ویکسین کی قلت ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں۔ سائنو فارم کی ایک اور کھیپ جلد متوقع ہے مگر کیونکہ ہمارے پاس دوسری ویکسینز بھی بڑی مقدار میں موجود ہیں اور سائنو فارم میں اور کین سائنو اور سائنو ویک میں زیادہ فرق نہیں ہے تو پھر ترجیح کی بات نہیں ہونی چاہیے ۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہر ویکسین مکمل تحقیق اور ٹرائلز کے بعد منظور ہوتی ہے۔ ’جس ملک کی ویکسین ہوتی ہے اسے اس ملک کے ادارے مکمل تحقیق کے بعد منظور کرتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں ویکسین کے 26 سینٹرز ہیں اور دو ماس ویکسینیشن سینٹرز ہیں جس سے شہر میں 20 ہزار سے زیادہ افراد کو ویکسین لگانے کی صلاحیت پیدا ہوگئی ہے۔
اب تک اسلام آباد میں سوا تین لاکھ کے قریب لوگوں کو ویکسین لگ گئی ہے جو کہ ویکسین کے لیے اہل 12 لاکھ افراد کی ایک چوتھائی ہے۔ ڈی ایچ او اسلام آباد کے مطابق آبادی کے تناسب سے ملک بھر میں سب سے زیادہ ویکسینیشن اسلام آباد میں ہوئی ہے۔

جن کو پہلی ڈوز کے بعد پیغام نہیں آ رہے ان کو کیا کرنا چاہیے؟

اس سوال پر کہ جن افراد کو کورونا ویکسین کی پہلی خوراک لگ چکی ہے تاہم دوسری خوراک کے لیے موبائیل پر میسج نہیں آرہا ایسے افراد کو کیا کرنا چاہیے، ڈی ایچ او کا کہنا تھا کہ ایسے افراد کو ویکسینیشن سینٹر آ جانا چاہیے۔

اب تک اسلام آباد میں سوا تین لاکھ کے قریب لوگوں کو ویکسین لگ چکی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے کہا کہ ہم نے سوشل میڈیا کے ذریعے پیغام بھی دیا ہے اور ٹیکنیکل ٹیم کو بھی ہدایت کر دی ہے۔ جب کبھی سسٹم ڈاون ہوتا ہے اور کسی کو پہلی خوراک لگ جاتی ہے تو کبھی کبھار ان کو دوسری خوراک کا پیغام نہیں ملتا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہم نے تکنیکی ٹیم بٹھائی ہے جو ایسے لوگوں کی مدد کر رہی ہے۔
ایسے لوگوں کا ڈیٹا نکال کر دیکھا جاتا ہے کہ ان کو پہلی خوراک کس ویکسین کی لگی ہے پھر اس کے مطابق دوسری خوراک لگا دی جاتی ہے۔
ڈاکٹر ضعیم ضیا کے مطابق اس طرح کے کوئی ڈیڑھ دو ہزار لوگ تھے جن کو مسئلہ ہوا اور ہمارے سینٹر پر آئے ہیں پھر ان کو دوسری خوارک دی گئی ہے اور مستقبل میں بھی ایسے لوگ ہوئے تو ہم ان کی مدد کریں گے۔ 
انہوں نے کہا کہ کچھ دن ایسے تھے جن میں مینول ڈیٹا کمپیوٹر پر منتقل نہیں ہوا اسے اپ ڈیٹ کرتے ہوئے کچھ بیک لاگ ہے جسے ہم ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی کو اگر یہ مسئلہ آ رہا ہے کہ ان کو دوسری خوراک کا پیغام نہیں آ رہا تو قریبی سینٹر پر چلے جائیں وہاں ان کو ویکسین لگا دی جائے گی۔
اس سوال پر کہ اگر کسی کو ویکسین کی دوسری خوراک سینٹر پر نہ ملے تو کیا کریں؟ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں اس طرح کا کوئی مسئلہ رپورٹ نہیں ہوا۔ ہر صوبہ اپنا انتظام کرتا ہے اس پر میں تبصرہ نہیں کر سکتا تاہم اسلام آباد میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں۔ اگر کہیں کوئی مسئلہ آتا ہے تو حل کر دیتے ہیں۔

ڈی ایچ او نے بتایا کہ اسلام آباد بڑا سینٹر ہے یہاں 50 فیصد مریض دیگر علاقوں سے آتے ہیں۔ (فوٹو: روئٹرز)
’ہم اسلام آباد میں سائنو فارم کو صرف دوسری ڈوز کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور کوئی بھی بندہ فرسٹ ڈوز کے لیے آتا ہے اسے سائنو فارم نہیں لگاتے کیونکہ یہ پالیسی گائیڈ لائن ہے۔ جتنے بھی لوگ جنہوں نے سائنو فارم کی پہلی خوراک لگائی ہے ان کو سائنو فارم کی دوسری خوراک ہی لگے گی اور نئے آنے والوں کو پہلی ڈوز کین سائنو یا سائنو ویک ہی لگے گی۔

اسلام آباد میں کیسز میں ریکارڈ کمی

ڈی ایچ او کے مطابق اسلام آباد میں کورونا کیسز مثبت آنے کی شرح دو فیصد کے قریب آ گئی ہے جو کہ تیسری لہر میں سب سے کم شرح ہے۔ انہوں نے کہا کہ  جمعرات کو سامنے والے اعدادوشمار کے مطابق کل 117 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 5177 ٹیسٹ کیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کامیابی کی وجہ مانیٹرنگ،  ویکسین اور آئسولیشن تھی۔ ہم نے ٹیسٹ زیادہ کیے اور سسٹم نے اچھا کام کیا۔

جمعرات کو اسلام آبا د میں 117 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 5177 ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ان کا کہنا تھا کہ اہم بات یہ ہے کہ اسلام آباد میں شرح اموات ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ کل 750 کے قریب اموات ہیں اور کیسز 80 ہزار سے بڑھ چکے ہیں۔
ڈی ایچ او نے بتایا کہ اسلام آباد بڑا سینٹر ہے یہاں 50 فیصد مریض دیگر علاقوں سے آتے ہیں۔ ’یہ میڈیکل سیاحت کا گڑھ ہے اور یہ ہمارا فرض بھی ہے کہ ملک بھر کے لوگوں کو علاج کی سہولت دیں۔‘