اسلام آباد ہائی کورٹ نے مریم نواز کو ایون فیلڈ کیس میں بری کر دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ کیس میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو بری کر دیا ہے۔ 
جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلوں پر سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ سنایا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں مریم نواز کی سات سال اور شوہر کیپٹن صفدر کی ایک سال قید کی سزا کو کالعدم قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں
سال 2018 کے عام انتخابات سے صرف تین ہفتے قبل اسلام آباد کی احتساب عدالت نے مریم نواز کو نیب کے ایون فیلڈ کیس میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی جس کو انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔
اسی کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو 10 سال جبکہ کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
اس سے قبل جمعرات کو سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ نیب (قومی احتساب بیور) کے بیان میں بڑا تضاد ہے، کبھی کچھ بیان دیتے ہیں کبھی کچھ۔
’پہلے نیب نے کہا مریم نواز 2006 میں لندن فلیٹس کی مالک بنیں، آج کہتے ہیں 1993 میں مالک بنیں۔ نیب کا پورا کیس شریف خاندان کے اپنے جوابات پر بنایا گیا۔‘
جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ ’اگر شریف خاندان سپریم کورٹ میں جواب دائر نہ کرتا تو کیس نہیں بن سکتا تھا۔ گزشتہ سماعت پر دوسرے پراسیکیوٹر نے ایک الگ موقف اختیار کیا۔ اُن پراسیکیوٹر نے کہا مریم نواز کا جائیداد کی خرید میں تعلق نہیں ہے۔ آپ آج کہہ رہے ہیں مریم نواز 1993سے بینیفشل مالک تھیں۔‘

’آج نواز شریف سرخرو اور عمران خان ناکام ہوئے‘

فیصلے کے بعد عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ آج نواز شریف سرخرو اور عمران خان ناکام ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کیس کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’جب یہ نواز شریف کے خلاف بنایا گیا تو ان کو کہا گیا کہ آپ کو استثنٰی ہے وہ لے لیں لیکن انہوں نے انکار کیا اور کیس کا سامنا کیا۔‘
انہوں نے عمران خان کی مبینہ آڈیو کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا سازشی کردار سامنے آگیا ہے، انہوں نے پاکستان اور سکیورٹی مفاد کے خلاف سازش کی۔
’عمران خان نے جعل سازی کی بنیاد پر اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا، پاکستان کی سالمیت اور اداروں پر حملے کیے اور سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنایا۔‘
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’جلد نواز شریف بھی ملک واپس آئیں گے۔ میرے الیکشن لڑنے کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔‘
آڈیو لیکس سے متعلق سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ ’آپ بھلے ہماری آڈیوز ریلیز کریں۔ ان سب سے ثابت ہو گا کہ ہم ملک کی بہتری کا ہی سوچتے ہیں۔‘
ان آڈیوز کی لیک کے پیچھے کوئی آئی ٹی کمپنی ہے؟ اس سوال پر مریم نواز نے کہا ’یہ آئی ٹی کمپنی نہیں ہے۔ یہ عمران خان ہے اور اس کے ساتھ اس کا کوچ اور ایک دو  نیوز چینلز ہیں۔‘