اسلام آباد: 20سے زائد خواتین کاریپ کرنیوالا ’’سیریل ریپسٹ‘‘ گرفتار

Rape

اسلام آباد پولیس نے 20 سے زائد خواتین کا ریپ اور جنسی تشدد کرنے والے سیریل ریپسٹ کو گرفتار کرلیا، متاثرہ خواتین میں پولیس کی ایک لیڈی کانسٹیبل بھی شامل ہے۔

بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق ملزم اسلام آباد ہائی وے کے ایک سے علاقے میں خواتین کو ریپ کا نشانہ بناتا رہا جہاں وی آئی پی موومنٹ کی وجہ سے اہلکاروں کی بڑی نفری تعینات ہوتی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ملزم خواتین کو ریپ کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے نازک اعضاء پر تیز دھار آلے سے ضربیں بھی لگاتا تھا۔

مقدمے کی تفتیش کرنے والے پولیس آفسر رخسار مہدی نے بی بی سی کو بتایا کہ خواتین کو تواتر کے ساتھ ریپ کا نشانہ بنانے والے ملزم کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے اور وہ گذشتہ 6 ماہ سے ایسے سنگین جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم ان خواتین کو نشانہ بناتا تھا جو اسلام آباد ہائی وے پر قائداعظم کے بڑے سائز کے پورٹریٹ کے سامنے جنگل سے گزر کر پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کیلئے ہائی وے پر آتے تھیں۔

رخسار مہدی کا کہنا ہے کہ جنگل کے عقب کی آبادی سے بہت سی خواتین اسلام آباد کے مختلف دفاتر میں کام کرتی ہیں اور وہ دفاتر جانے اور گھر آنے کیلئے یہی راستہ اختیار کرتی ہیں۔

ڈی ایس پی کا کہنا تھا کہ ملزم جس خاتون کو ریپ کا نشانہ بنانا چاہتا، اس کی 2 سے 3 دن تک ریکی کرتا اور خاتون کے دفتر جانے اور گھر واپس آنے کی معلومات حاصل کرتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم اپنے پاس بے ہوش کرنیوالی دوائی کے علاوہ تیز دھار آلہ بھی رکھتا تھا تاکہ اگر کوئی مزاحمت کرے تو اس پر تیز دھار آلے سے حملہ کیا جاسکے۔

ڈی ایس پی کے مطابق ایک خاتون کی جانب سے تھانہ کرال میں نامعلوم شخص کی جانب سے حملہ کرنے اور جنگل میں لے جاکر ریپ کا نشانہ بنانے کی شکایت کے بعد اس بات کا علم ہوا۔

تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے مطابق متاثرہ لڑکی کے بیان کی روشنی میں ملزم کا اسکیچ بنوایا گیا، جو قریبی آبادی میں لوگوں کو دکھایا گیا اور  ایک شخص نے اسے شناخت کرلیا، اور بتایا کہ اس نے ان کی تین بیٹیوں کو بھی جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملزم کی عمر 25 سال اور وہ مڈل پاس ہے، ملزم اسلام آباد اور راولپنڈی کے علاوہ لاہور میں بھی محتلف گھروں میں بطور باورچی کام کرتا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم ریپ سے قبل خواتین کو ڈرا دھمکا کا ان سے قیمتی سامان، موبائل فون اور نقدی لوٹ لیتا تھا۔

پولیس کے مطابق کچھ عرصہ قبل اسلام آباد پولیس کی ایک لیڈی کانسٹیبل کو بھی اسی مقام پر ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ اس واردات میں بھی یہی شخص ملوث ہے۔

متعلقہ خبریں