اسلام دشمنی نےپاکستانی نژاد کینیڈین بچے کوتنہا کردیا

کینیڈا میں اسلامو فوبیا نے 9 سالہ پاکستانی نژاد کینیڈین بچے سے اس کا خاندان چھین لیا۔ یہ اپنی نوعیت کا اسلامو فوبیا کا کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی بھارت کے علاوہ مغربی ممالک میں بھی ایسے ان گنت واقعات رونما ہوچکے ہیں، جہاں مذہبی منافقرت کے باعث حملہ آور نے بڑے پیمانے پر مسلمانوں کو قتل کیا۔

کہنے کو کینیڈا کو تمام مذاہب کے ماننے والے تارکینِ وطن کا خیر مقدم کرنے والا ملک تصور کیا جاتا ہے، جہاں بسنے کیلئے ہر سال ہزاروں افراد ایکسپریس انٹری یا دیگر ذرائع سے مستقل سکونت اختیار کرنے کیلئے اپنی اپنی قسمت آزماتے ہیں، تاہم یہاں اس سے قبل بھی مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنا کر قتل کرنے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

متاثرہ خاندان/ بشکریہ ٹوئٹر

سال 2017 میں فرانسیسی زبان بولنے والے دائیں بازو کے قوم پرست شخص نے کیوبک شہر کی ایک مسجد میں گھس کر فائرنگ سے 6 افراد کو قتل کیا۔

کینیڈین صوبے البرٹا سے تعلق رکھنے والی ایک پاکستانی فیملی نے سما ڈیجیٹل کو بتایا کہ مغربی ممالک میں رہائش پذیر اکثر مسلم کمیونٹی کے افراد جب نیا نیا یہاں کا رخ کرتے ہیں تو انہیں ان معاشرے میں اپنی جگہ بنانے اور رہنے کیلئے اکثر رنگ ڈھنگ تبدیل کرنا پڑتا ہے، تاکہ لوگ انہیں مذہبی منافقرت کا نشانہ نہ بنا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ وقت کیساتھ ساتھ کچھ چیزیں تو تبدیل ہوجاتی ہیں اور آپ کے آس پاس کے لوگ آپ کو سمجھ جاتے ہیں، مگر پھر بھی کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو کسی طور آپ کو یہاں کے حصے کے طور پر قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے اور چاہتے ہیں کہ آپ یہاں سے چلے جائیں۔

امریکا کے شہر بوسٹن میں مقیم ایک مسلم فیملی سے جب سما ڈیجیٹل نے اسلامو فوبیا سے متعلق دریافت کیا کہ کیا کبھی انہیں وہاں رہتے ہوئے ایسے کسی رویے کا سامنا کرنا پڑا جس میں مسلمان ہونے پر تعصب پرتا گیا، تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں بحیثیت مسلمان سرکاری سطح پر تو تحفظ حاصل ہے مگر لوگوں کی انفرادی نفرت یا ان کے رویہ کے بارے میں آپ کچھ نہیں کرسکتے۔

دیکھا جائے تو کینیڈا میں اتوار 7 جون کی رات پیش آنے والا واقعہ منظم انداز میں بڑھتے اسلاموفوبیا کا ایک اور مظہر ہے۔ ایک وہ ملک جہاں کے سربراہ مملکت بار بار مذہبی ہم آہنگی اور اسلامو فوبیا کے خلاف بیان دے چکے ہیں، وہاں ایسے واقعات کینیڈا کا امتحان بھی ہیں۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ پال ویٹ کے مطابق ملزم نے اقرار کیا ہے کہ اس نے متاثرہ خاندان کو مسلمان ہونے کی وجہ سے ہی نشانہ بنایا تھا، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ملزم کا منافرت میں یقین رکھنے والے کسی گروہ سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

اخباری نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے پال ویٹ نے نفرت پر مبنی الزام کے حوالے سے کوئی تفصیلی ثبوت پیش نہیں کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق امریکا میں مسلم اکثریت 6 کینیڈا میں تقریباً2 ملین سے زائد مسلمانوں کی آبادی ہے، اور جہاں عیسائیت کے بعد اسلام دوسرا بڑا مذہب تصور کیا جاتا ہے۔ ٹورنٹو میں مسلمانوں کی اکثریت 7.7 جب کہ فرانسیسی اکثریت کے حامل صوبے کیوبک کے شہر مونٹریال میں یہ تناسب 6 فیصد ہے۔ جب کہ کینیڈا میں اسلام تیزی سے پھیلنے والا مذہب بھی ہے۔

صوبہ انٹاریو اور کیوبک میں بڑی تعداد میں مسلم کمیونٹی آباد ہے۔ سال 2011 میں کیے گئے سروے کے مطابق یہ تناسب درجہ ذیل رہا۔

کینیڈین چارٹر کے سیکشن 2 کے مطابق مسلم خواتین کو اسکولوں اور دفاتر میں حجاب پہننے کی آزادی ہے۔

اسلامو فوبیا ہے کیا ؟

واضح رہے کہ عام فہم زبان میں اسلاموفوبیا کا مطلب مذہبِ اسلام یا مسلمانوں کے خلاف اُن کے عقائد کی بنیاد پر نفرت، تعصب یا خوفزدہ کرنے کا رویہ برتنا ہے۔

اسلامو فوبیا کی کوئی گنجائش نہیں

واقعہ پر کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر اپنے بیان میں لکھا کہ ان کی لندن شہر کے حکام سے فون پر بات ہوئی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ ہم اسلامو فوبیا سے نمٹنے کیلئے دستیاب تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم متاثرہ افراد کا غم بانٹنے کیلئے موجود ہیں۔

ایک اور ٹوئٹ میں جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ “لندن اور ملک بھر میں رہنے والی مسلمان برادری کو بتایا چاہتا ہوں کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہماری کمیونٹیز میں اسلامو فوبیا کی کوئی گنجائش نہیں۔ نفرت کا یہ واقعہ داخلی نوعیت کا اور حقیر قسم کا معاملہ ہے اور اسے لازمی طور پر روکا جائے گا۔

مذہبی منافقرت نے تین نسلیں تباہ کردیں

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ متاثرہ فیملی المناک سانحے کے باعث کرب کا شکار ہے جس کے ساتھ پہلا رابطہ ٹورانٹو میں ہمارے قونصل جنرل کا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان کو میتیں پاکستان بھجوانے کی پیشکش کی تھی لیکن وہ وہیں تدفین کے خواہش مند ہیں۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تین بے گناہ، بے قصور نسلیں اس واقعے سے متاثر ہوئی ہیں جب کہ پولیس کی تحقیقات کے مطابق اس واقعے میں اسلاموفوبیا کا عنصر بھی موجود ہے۔ میرے نزدیک یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے، میں بطور وزیرِ خارجہ کینیڈین وزیرِ اعظم سے کہوں گا کہ یہ ان کے معاشرے کا امتحان ہے۔ وہ کینیڈا میں مقیم مسلمانوں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

کینیڈا میں انسانی حقوق کی کارکن اور اخبار ٹورنٹو اسٹار کی کالم نگار امیرا ایلغاوابی نے فیملی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ شیئر کیا۔ اس اعلامیے میں لکھا ہے: جو لوگ سلمان، مدیحہ اور ان کے خاندان کو جانتے تھے انھیں معلوم ہے کہ وہ بطور فیملی مثالی مسلمان، کینیڈین اور پاکستانی تھے۔

اسلامو فوبیا کیخلاف کھڑے ہونے کا وقت آگیا ہے

متاثرہ فیملی کے لواحقین کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے چاروں پاکستانی نژاد کینیڈین شہری تھے۔ ان افراد کے نام یہ ہیں۔ 46 برس کے سلمان افضل، ان کی 44 سالہ اہلیہ مدیحہ، 15 برس کی بیٹی یمنہ اور 74 برس کی دادی (جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا) شامل ہیں، جب کہ اسپتال میں زیرِ علاج بچے کا نام فیاض بتایا گیا ہے، جس کی عمر 9 سال ہے۔

لواحقین کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ سبھی ہمسایے سلمان خاندان کو جانتے تھے۔ وہ مسلمان، کینیڈین اور پاکستانی تھے۔ ان کا تعلق مختلف پیشوں سے تھا اور انہوں نے محنت سے اپنا نام کمایا تھا۔ سلمان کے بچوں کا شمار اسکول کے ہونہار طلبہ میں ہوتا تھا اور وہ دین دار ہونے کی شناخت رکھتے تھے۔ یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے جس میں جان بوجھ کر ایک کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ وقت آگیا ہے کہ لوگ نفرت اور اسلامو فوبیا کے رویے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

لندن میئر

انٹاریو کے شہر لندن کے میئر ایڈ ہولڈر کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ یہ اجتماعی قتل کا واقعہ ہے جس میں ایک مسلم خاندان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ یہ ایک ناقابلِ بیان اور نفرت کی بنا پر سرزد ہونے والا واقعہ ہے۔ دوسری جانب پولیس سربراہ اسٹیفن ولیمز کے مطابق کمیونٹی میں رواداری کا فقدان ہے۔ یہی سبب ہے کہ نفرت کی بنا پر ایسے واقعات نمودار ہونے لگے ہیں۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے اپنے تاثرات کے اظہار میں کہا ہے کہ 9/11 کے حملوں کو اگرچہ دو دہائیاں بیت چکی ہیں لیکن صحیح معنوں میں مغربی معاشروں میں اسلاموفوبیا ’اب عروج پر ہے۔

متعلقہ خبریں