اسٹیٹس کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو روکنا چاہتا ہے، بابراعوان

اوورسیز پاکستانیوں کےووٹ کےحق کیلئے کسی نے نہیں سوچا

مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا کہ ملک میں موجود اسٹيٹس کو (رائج نظام اور قوانین) اليکٹرانک ووٹنگ مشین کو روکنا چاہتا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کے لیے کسی نے نہیں سوچا بلکہ بيرون ملک مقيم پاکستانيوں کو کہا گيا انہيں مسائل کا نہيں پتا۔

بابر اعوان نے کہا کہ اليکشن کمشين نے کہا ہميں اليکٹورل ريفارمز پر اعتراضات ہيں لیکن اس پر جتنی بھی قانون سازی ہوئی ہے وہ قانون کے مطابق ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹورل ووٹنگ مشین پر حکومت سنجیدہ ہے لیکن دوسری جماعتیں سنجیدہ نہیں۔ الیکشن کمیشن تمام جماعتوں کو بلائے ہمیں کوئی اعتراض نہیں، اپوزيشن نے پارليمانی کميٹيوں کا بائيکاٹ بھی کيا۔

الیکشن ایکٹ ترمیمی بل آئین سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

بابر اعوان نے واضح کیا کہ ڈائيلاگ کے دروازے بند نہيں کريں گے لیکن اين آر او پر ڈائيلاگ نہيں کر سکتے۔ یہ بھی کہ اکہ پارليمنٹ ميں جو ہوا اسے شرمناک کہنا بھی کم ہے۔

واضح رہے کہ 15جون کو الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے اپنے اعلامیہ میں کہا تھا کہ تھرڈ پارٹی آڈٹ نے الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم میں خامیوں کی نشاندہی کی جس میں آڈٹ کمپنی کی جانب سے یہ نظام استعمال نہ کرنے کی سفارش کی گئی۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے دو بین الاقوامی کمپنیوں کی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا عملی مظاہرہ بھی دیکھا۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی مشین کا جائزہ جولائی کے آخر میں لیا جائے گا۔

ایک ہفتہ قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے الیکشن ایکٹ 2017 کی درجنوں شقوں میں ترمیم سے متعلق بل کی منظوری دی تھی۔

ترمیمی ایکٹ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کے لیے نامزدگی فیس، حد بندی، انتخابی فہرستوں، سینیٹ انتخابات کے لیے اوپن رائے شماری، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حق رائے دہی اور انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال سے متعلق ہیں۔

متعلقہ خبریں