اسپتال، کالج سے محروم ایک بدقسمت ضلع

صحت و تعلیم دونوں ایسی سہولیات ہیں جن کی فراہمی پسماندہ علاقوں میں بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہوتی ہے لیکن ہمارے ملک میں ایک ایسا بدقسمت ضلع بھی ہے جہاں نہ تو کوئی مناسب اسپتال موجود ہے اور نہ ہی لڑکوں کے لیے کوئی کالج جبکہ یہاں کی ہزاروں لڑکیاں سیکنڈری اسکول تک سے محروم ہیں۔

یہ خیبر پختونخوا کا ضلع تورغر ہے جو اس دور جدید میں بھی تعلیم و صحت کی سہولیات کے علاوہ پینے کے صاف پانی، ٹوٹ پھوٹ سے پاک سڑک اور دیگر بنیادی سہولتوں تک سے محروم ہے۔

ضلع تورغر

تورغر پشتو زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب سیاہ پہاڑ ہے۔ یہاں موجود سیاہ پہاڑوں کی نسبت سے اس علاقے کا یہ نام پڑا۔

پاکستان بننے کے بعد سے سن 2011 تک تورغر ایک قبائلی علاقہ رہا تاہم سابقہ وزیراعلیٰ امیرحیدر خان ہوتی کے دور حکومت میں اسے ضلع کا درجہ دے دیا گیا۔ اس سے پہلے اس علاقے کا نام کالا ڈھاکہ تھا لیکن ضلع کا درجہ ملنے کے بعد اس کا نام تبدیل کرکے تورغر رکھ دیا گیا۔

سروے آف پاکستان میں خیبر پختونخوا کے اس ضلع تورغر کو پاکستان کا پسماندہ ترین ضلع قرار دیا گیا ہے۔

تورغر سے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی لائق محمد خان کسی بڑے اسپتال، کالج و دیگر سہولیات کے حوالے سے اس ضلع کی محرومی کو تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں اور گاہے بہ گاہے ان محرومیوں کا اظہار صوبائی اسمبلی میں بھی کرتے رہتے ہیں۔

اس حوالے سے سماء ڈیجیٹل نے جب لائق محمد خان سے رابطہ کیا تو ان کا یہی موقف سامنے آیا کہ ضلع کی آبادی 3 لاکھ سے زائد ہے لیکن اس کے باوجود تورغر بنیادی سہولیات سے محروم ہے حتیٰ کہ 10 برس قبل ضلع کا درجہ پانے کے باوجود دیگر اضلاع کی طرح اس کے صدر مقام یا کسی بھی حصے میں ضلعی ہیڈکوارٹر سطح کا کوئی بڑا اسپتال تک موجود نہیں۔

لائق محمد خان اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ تربیلہ ڈیم بنتے وقت اس علاقے کے لوگوں نے بہت قربانیاں دیں اور اس وقت تورغر کے 100 کے قریب دیہات بھی زیرآب آئے۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ تربیلہ ڈیم سے ملک کو کھربوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے لیکن اس میں سے ہری پور اور مانسہرہ کو ملنے والے حصے کی طرح ضلع تورغر کو کوئی رائیلٹی نہیں ملتی جس سے علاقے میں ترقیاتی کاموں میں مدد مل سکے اور اسے پسماندگی کے گڑھے سے باہر نکالا جاسکے۔

تاہم اب کچھ امکانات پیدا ہوئے ہیں کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں تورغر کی بھی کچھ قسمت جاگ جائے کیوں کہ یہاں کی سڑکوں کی تعمیر اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے بالترتیب 30 کروڑ روپے اور 20 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں لیکن ان مدات کی منظوری کے بعد منصوبوں پر کام کا آغاز اور پھر اس کی تکمیل بہرحال ایک وقت طلب معاملہ ہے۔

لائق محمد خان اس بات کے لیے بھی کوشاں ہیں کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے صوابدیدی فنڈ سے 10 بنیادی ہیلتھ یونٹ بنائے جائیں جن میں ماہر ڈاکٹرز کی تعیناتی کی جائے جس سے علاقے میں صحت کے مسائل کے کچھ حل سامنے آنے کے امکانات ہیں۔

منتخب رکن اسمبلی کی کوششیں اور بجٹ سے امیدیں اپنی جگہ تاہم یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایک ایسے علاقے میں جہاں لاکھوں کی آبادی کے لیے ایک بھی ڈی ایچ کیو لیول کا اسپتال نہ ہو، جہاں ہزاروں بچیوں کے لیے کوئی ہائی اسکول نہ ہوں، سڑکیں نہ ہوں اور اگر کہیں ان کا وجود ہو تو بھی وہ بدترین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں وہاں کے لیے چند کروڑ روپے کا بجٹ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔

سماء ڈیجیٹل نے اس حوالے سے تورغر سے تعلق رکھنے والے ایک سماجی کارکن محمد زاہد سے بھی رابطہ کیا جنہوں نے بتایا کہ علاقے کے عوام آج بھی مریضوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے کشتی پر انحصار کرتے ہیں جو کہ ایک انتہائی خطرناک طریقہ کار بھی ہے جبکہ یہ لوگ اشیائے خور و نوش اور دیگر ضروری چیزیں دربند اور ہری پور سے خرید کر کشتی ہی کے ذریعے گھر لانے پر مجبور ہیں۔

محمد زاہد نے کہا کہ تورغر کے 80 کلومیٹر کی حدود میں دریائے سندھ پرکوئی پل نہیں جبکہ 60 فیصد علاقے میں سڑک کی سہولت میسر نہیں لہذا صوبائی حکومت منصوبوں کے روایتی اعلانات  کرنے کے بجائے ایک مکمل پیکج کا اعلان کرے بصورت دیگر یہ ضلع ہمیشہ پسماندہ اور سہولیات سے محروم ہی رہے گا۔

متعلقہ خبریں