اسپیکرشپ سے استعفیٰ حزب اختلاف کی خواہش ہے،اسدقیصر

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے بتایا ہے کہ کسی سے ذاتی عناد یا دشمنی نہیں ہے اور تمام اراکین قابل احترام ہیں۔

اسلام آباد میں اسپیکراسد قیصر نےصحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں بتایا کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی تقریر کے دوران ان لوگوں کے خلاف ایکشن لیا جن کو ہلڑ بازی کرتے ہوئے خود دیکھا تھا۔اجلاس کے بعد اسمبلی کی ویڈیوز کا جائزہ بھی لیا۔ ایوان کے تقدس کے لیے قدم اٹھایا اور اراکین پارلیمنٹ بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

اسد قیصر نےواضح کیا کہ نمائندے عوام کے لیے رول ماڈل ہیں اور انھیں چاہئے کہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لیےغلط پیغام نہ چھوڑیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے بتایا کہ بدھ کو وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی اور اپوزیشن لیڈرشہباز شریف اور پیپلزپارٹی چئیرمین بلاول بھٹو سے ٹیلی فون پر بات کی۔ انھوں نے واضح کیا کہ چاہتا ہوں ایوان کو قانون کے مطابق لے کر چلیں۔

اپوزیشن سے متعلق انھوں نے کہا کہ اسپیکر شپ سے استعفی حزب اختلاف کی خواہش اور تحریک عدم اعتماد لانا اپوزیشن کا حق ہے ۔ جو مینڈیٹ ملا ہے اس کو قواعد و قانون کے مطابق چلاؤں گا۔امید ہے کہ مسئل جلد حل ہوجائے گا۔

انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں پیش آنے والے واقعات افسوسناک ہیں۔ بجٹ سیشن میں ایک دوسرے کو سنا جائے اور بجٹ پر فیصلہ عوام کرے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں ایوان کے ڈیکورم کا خیال رکھیں۔

اسد قیصر نے واضح کیا کہ ایوان میں سال 2020 میں 114 گھنٹے کا وقت حکومت کو ملا جبکہ 103 گھنٹے اپوزیشن کو ملا۔ اپوزیشن کو اس کی تعداد کے مطابق وقت دیا۔ اسپیکر کے عہدے پر جانبدار نہیں اور سب کو برابر کا موقع دیتا ہوں۔

منگل قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی تقریر کے دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین میں تصادم ہوا، اس دوران دونوں جانب سے بجٹ بک اور مختلف اشیاء ایک دوسرے پر پھینکی گئی، اشتعال انگیز صورتحال پر قابو پانے کیلئے سارجنٹ ایٹ آرمز کو بھی اسمبلی میں بلالیا گیا، اس دوران کئی اراکین اسمبلی ایک دوسرے سے الجھتے رہے۔

متعلقہ خبریں