اس سال پريکٹيکل امتحانات نہیں لئے جائیں گے،سندھ حکومت

فائل فوٹو

وزیرتعلیم سندھ کا کہنا ہے کہ تحریری امتحان صرف اختیاری مضامین کے ہونگے۔ اس سال پریکٹیکل امتحانات نہیں لیے جائیں گے۔

وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی کی زیر صدارت جمعرات 10 جون کو بورڈز امتحانات کے حوالے سے مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سکریٹری اسکول ایجوکیشن احمد بخش ناریجو ، سیکریٹری کالج ایجوکیشن خالد حیدر شاہ ، ایڈیشنل سیکریٹری تعلیم ڈاکٹر فوزیہ، چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی سعید احمد، چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ حیدرآباد محمد میمن سمیت دیگر شریکِ ہوئے۔

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم کی اسٹئیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں ان تمام تجاویز کو رکھا جائے گا۔ تمام اسٹیک ہولڈر کی مشاورت سے سندھ میں تعلیمی اداروں کو پہلی سے آٹھویں تک کھولنے، نویں اور دسویں کے امتحانات کے انعقاد سمیت دیگر کا فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سندھ میں تعلیم کے حوالے سے تمام فیصلے اسٹیک ہولڈر کی مشاورت کے بعد ہوں۔ اجلاس میں سندھ میں دسویں جماعت کے امتحانات 5 جولائی سے شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔ 12ویں جماعت کے امتحانات 26جولائی سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیر تعلیم سندھ کا کہنا تھا کہ اس سال تحريری امتحانات صرف اختياری مضامين کے ہوں گے۔ اس سال پريکٹيکل امتحانات نہیں لئے جائیں گے۔ 50 فيصد ايم سی کيوز،30 فيصد مختصر جوابات اور 20 فيصد طويل جوابات پرچوں میں شامل ہونگے۔

اس سے قبل چیئرمین انٹر میڈیٹ بورڈ و سربراہ انٹر بورڈز کمیٹی سندھ ڈاکٹر سعید الدین کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ میٹرک سائنس کا طالب علم طبیعیات (فزکس) اور ریاضی (میتھ) کا امتحان دے گا، جب کہ جنرل گروپ کے طالب علم کے لیے اختیاری مضامین سے متعلق اعلان جلد کیا جائے گا۔

بارہویں جماعت میں انجینیرنگ کے طلبا فزکس، کیمسٹری، ریاضی کے پرچے دینگے۔

بارہویں میڈیکل گروپ کے طلبا فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی کے پرچے دینگے۔

بارہویں جنرل سائنس کے طلبا کمپیوٹر سائنس ، اکنامکس، شماریات کے پرچے دینگے۔

کامرس گروپ کے طلبا پرنسپلز آف کامرس، شماریات، بزنس کے پرچے دینگے۔

دوسری جانب چیئرمین ٹیکنیکل بورڈ ڈاکٹر مسرور شیخ کا کہنا تھا کہ ہمارے طلبا کو ٹیکنالوجی کے اختیاری مضامین دینا ہوں گے تاہم لازمی مضامین جیسے اردو، اسلامیات، انگریزی وغیرہ کے امتحانات نہیں لیے جائیں گے۔

قبل ازیں اجلاس میں سندھ میں 9 ویں تا انٹر تک کے امتحانات کے انعقاد، امتحانات میں شفافیت، نظام امتحانات میں اصلاحات، آئندہ بورڈ امتحانات کے اوقات اور طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر بھی مشاورت کی گئی کہ نویں سے بارہویں تک کے امتحانات کیلئے امتحانی مراکز میں اضافہ، پریکٹیکل امتحانات سمیت دیگر کا جائزہ لیا جائے۔

متعلقہ خبریں