’اشرف غنی امریکہ گئے لیکن ہاتھ کچھ نہ آیا‘، افغانوں کے خدشات میں اضافہ

افغان اراکین پارلیمنٹ نے صدر اشرف غنی اور امریکی صدر کی ملاقات کو توقعات کے برعکس قرار دیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق 11 ستمبر کے بعد غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد افغان اراکین پارلیمنٹ کابل حکومت کی بقا کے لیے امریکی دفاعی تعاون کے وعدے کی امید کر رہے تھے۔
جمعے کو امریکی صدر جوبائیڈن اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان واشنگٹن میں براہ راست ملاقات ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں
افغان صدر امید کر رہے تھے کہ امریکی صدر یا تو مکمل انخلا کو ترک کر دیں گے اور یا طالبان کے علاقائی قبضوں کو محدود کرنے کے لیے افغان فوج کو فضائی مدد فراہم کر دیں گے۔
تاہم امریکی صدر نے جمعے کو افغانوں پر زور دیا کہ وہ ’اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں‘ اور ساتھ میں یہ کہا کہ اب امریکی انخلا کا وقت آ گیا ہے۔
امریکی صدر نے افغانستان کے امن اور استحکام کے لیے معاشی مدد دینے کا وعدہ بھی کیا۔
صدر غنی نے کہا کہ وہ امریکی فوجوں کے انخلا کے بارے میں امریکی صدر کے ’تاریخی‘ فیصلے کا احترام اور حمایت کرتے ہیں۔
صوبہ پروان سے رکن پارلیمان صدیق احمد عثمانی کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی امریکہ گئے لیکن ان کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔
انہوں نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طاقت کی اجارہ داری، طاقت کے حصول کے لیے لڑائی اور کرپشن وہ مسائل ہیں جس سے افغان حکومت کا نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ عالمی سطح پر امیج متاثر ہوا ہے۔

کئی ضلعوں پر قبضے کے بعد متعدد افغان خاندان بے گھر ہوئے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی اور سفارتی امداد کا وعدہ کرنا دنیا کو یہ دکھانا تھا کہ امریکہ فوجوں کے انخلا کے بعد اخلاقی طور پر افغانستان کو نہیں چھوڑ رہے۔
طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حکومتی وفد کے رکن عبدالحفیظ منصور کا کہنا ہے کہ کابل کے لیے واشنگٹن کے عہد میں کوئی نئی بات نہیں دیکھی۔
افغان صدر کے دورہ واشنگٹن سے قبل طالبان کے ڈپٹی چیف ملا عبدالغنی برادر نے کہا کہ طالبان مذاکرات کی بحالی کے لیے پرعزم ہیں اور وہ ’اقتدار کی اجارہ داری‘ میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔
طالبان نے 30 سے زیادہ ضلعوں کا کنٹرول حاصل کیا ہے جس کی وجہ سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ جنگجو طاقت کے ذریعے اقتدار میں آجائیں گے۔
حالیہ ہفتوں میں متعدد امریکی حکام نے خبردار کیا تھا کہ اگر طالبان ایسے ہی پیش قدمی کرتے رہے اور کابل واشنگٹن کی فوجی مدد سے محروم رہا تو اشرف غنی کی حکومت چھ مہینوں کے اندر گر سکتی ہے۔

افغان فوج کی مدد کے لیے شہریوں نے بھی اسلحہ اٹھایا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات ’ایک جوڑے کے ’طلاق سے گزرنے‘ کے مترادف تھا۔
سابق صدر حامد کرزئی کے سابق مشیر طارق فرہادی نے عرب نیوز کو بتایا کہ افغان وفد امن کے لیے کسی بھی نئے حل اور تجاویز کے بغیر واشنگٹن گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’امریکہ دو سال سے زیادہ عرصے سے یہ کہہ رہا ہے کہ وہ افغانستان کا سیاسی حل چاہتا ہے، اور افغانستان کے ہمسائے بھی یہی کہہ رہے ہیں۔‘
’بائیڈن نے احترام کے ساتھ افغان رہنماؤں کا استقبال کیا لیکن یہ ملاقات طلاق لینے والے جوڑے جیسے تھی جو دو مختلف حقائق دیکھ رہے تھے۔‘

افغان سکیورٹی فورسز نے طالبان سے کئی اضلاع واپس لینے کے دعویٰ کیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
فرہادی نے افغانستان سے امریکی افواج کے جلد انخلا کے بارے میں امریکی صدر پر ’دباؤ‘ ڈالنے کے لیے صدر غنی کی ناکام کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’افغان رہنما بغیر کسی چیز کے کابل واپس لوٹے ہیں جو ان کے سیاسی کیریئرز کو بچا سکتا تھا۔ کابل کے سیاسی طبقے میں دراڑ ہے۔ امن کے لیے کوئی قابل اعتبار منصوبہ نہ ہونے کہ وجہ سے نوجوان افغان لڑ رہے ہیں اور اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔‘
ورلڈ بینک کے سابق مشیر احمد ثمین کا کہنا ہے کہ ’بائیڈن نے واضح کر دیا کہ افغانستان کا مستقبل افغانوں کے ہاتھ میں ہے، اس ملاقات نے واضح کر دیا ہے کہ اب بلینک چیک مہیا کرنے کے دن ختم ہوچکے اور مستقبل میں اب ان کی مدد انسانی ہمدری کے بنیاد پر ہوگی۔‘