اضلاع کے کنٹرول کی جنگ، افغان فورسز کے مزید کمانڈوز میدان میں

منگل 6 جولائی 2021 16:54

افغان قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا ہے کہ طالبان کے قبضے میں گئے علاقے واپس لیں گے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

افغان حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں طالبان کے قبضے میں جانے والے تمام اضلاع کا کنٹرول واپس حاصل کیا جائے گا۔
افغانستان میں حکومت نے تاجکستان کے سرحدی علاقوں میں طالبان سے شکست کھا کر ایک ہزار فوجی اہلکاروں کے پڑوسی ملک جانے کے بعد شورش زدہ اضلاع میں سینکڑوں مزید کمانڈوز بھیجے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق متعدد اضلاع میں لڑائی ہو رہی ہے تاہم عسکریت پسندوں نے ملک کے شمالی علاقوں پر اپنی توجہ مرکوز کر رکھی ہے جہاں گزشتہ دو ماہ کے دوران درجنوں اضلاع سرکاری افواج کے قبضے سے نکل گئے ہیں۔
مزید پڑھیں
گزشتہ ہفتے امریکی اور نیٹو افواج نے طالبان کے خلاف آپریشن کا کمانڈ سینٹر بگرام ایئر بیس خالی کر دیا تھا۔
کابل کے نزدیک اس ایئربیس سے 20 برس تک غیرملکی افواج طالبان کے خلاف کارروائیاں کرتی رہیں۔
یاد رہے کہ گیارہ ستمبر سنہ 2011 کو امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد امریکی افواج نے افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔
افغان قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب نے صحافیوں کو بتایا کہ ’یہ جنگ ہے، دباؤ ہے۔ کبھی چیزیں ہمارے حق میں جاتی ہیں اور کبھی ایسا نہیں ہوتا لیکن ہم افغان عوام کا دفاع اور تحفظ جاری رکھیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’طالبان کے قبضے سے اضلاع کا کنٹرول واپس لینے کے لیے ہمارے پاس منصوبہ ہے۔‘
افغانستان کے شمال میں تخار اور بدخشاں کے ان اضلاع میں فوجی اہلکاروں اور حکومت کی حامی ملیشیا کو تعینات کیا گیا ہے جہاں طالبان نے نہایت سرعت کے ساتھ لڑائی میں بڑے علاقے پر قبضہ کیا اور اُن کو معمولی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

طالبان اور افغان فورسز میں لڑائی کے دوران ہزاروں عام شہری جان بچا کر علاقے سے نکل رہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
افغان دفاع حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کی حالیہ کارروائیوں کے دوران فورسز کی بنیادی توجہ بڑے شہروں، سڑکوں اور سرحدی قصبوں کی حفاظت پر مرکوز ہے۔
رواں سال مئی میں امریکی افواج کی واپسی کا آغاز ہوتے ہی طالبان کے حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی۔
عسکریت پسندوں کے حالیہ قبضوں اور پیش قدمی نے اس خوف میں اضافہ کیا ہے کہ افغان فورسز کے لیے مشکلات بڑھیں گی خاص طور پر بگرام ایئر بیس خالی ہونے سے لڑائی کے دوران سرکاری افواج کو امریکی فضائی مدد نہیں مل سکے گی۔