اغواء اور قتل کے مقدمے میں عزیربلوچ کو شناخت کرلیاگیا

تاجر کے بیٹے کے اغواء اور قتل کے مقدمے میں گواہ نے عزیر بلوچ کو شناخ کرلیا۔ لیاری گینگ وار کے سرکردہ رکن پر 198 افراد کے قتل کے الزامات ہیں۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں تاجر کے بیٹے کے اغواء اور قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس سب انسپکٹر نے عزیر بلوچ کو بطور اغواء کار شناخت کرلیا۔

گواہ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ عزیر بلوچ نے تاجر کے بیٹے کو اغواء کیا اور تاجر سے تاوان کی رقم طلب کی۔ لڑکے کو اس کے والد کی جانب سے تاوان کی رقم ادا نہ کرپانے پر قتل کردیا گیا تھا۔

عدالت نے حکام کو آئندہ سماعت پر مزید گواہ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

عزیر بلوچ کو رینجرز نے 30 جنوری 2016ء کو حراست میں لیا تھا، ایک بیان کے مطابق لیاری کے گینگسٹر نے قتل، بھتہ خوری، زمینوں پر قبضوں، 14 شوگر ملوں پر غیر قانونی قبضوں، علاقہ مکینوں کو ہراساں کرنے اور اسلحہ کی خریداری سمیت مختلف مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا، تاہم بعد ازاں وہ اپنے اعترافی بیانات سے مکر گیا تھا۔

رینجرز نے اپریل 2017ء میں عزیر بلوچ کو جاسوسی اور غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو معلومات فراہم کرنے کے الزامات پر پاک فوج کے حوالے کردیا تھا، کور 5 نے عزیر بلوچ کو تین سال بعد 6 اپریل 2020ء کو پولیس کے سپرد کردیا تھا۔

متعلقہ خبریں