افغانستان:بھارت نے قندھار میں قونصل خانہ بندکردیا

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی اور 80 فیصد علاقوں میں قبضے کے پیش نظر بھارت نے قندھار میں قونصل خانہ بند کر دیا ہے۔

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی کے بعد 50 بھارتی سفارتکاروں سمیت اسٹاف کے ارکان کو خصوصی طیارے کے ذریعے افغانستان سے نکال کر واپس نئی دلی بلا لیا گیا ہے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ قونصل خانے کو بند نہیں کیا، بلکہ بھارتی اسٹاف کو سیکیورٹی کے پیش نظر عارضی طور پر واپس بلا لیا ہے۔ مقامی افراد پر مشتمل عملہ کام کرتا رہے گاْ، جب کہ کابل کا سفارت خانہ اور مزار شریف کا قونصلیٹ بدستور امور سر انجام دے رہے ہیں۔ انڈین ایئر فورس کے خصوصی طیارے نے عملے کو افغانستان سے نکالا۔

بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سیکیورٹی کے بگڑتے حالات پر نظر ہے،یہ اقدام احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے لیا گیا ہے۔ ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ بھارتی عملہ محفوظ ہو۔ ہم نے شہر میں لڑائی کے خطرے کو محسوس کیا جو ان کو مشکل صورت حال سے دو چار کر سکتا تھا۔

واضح رہے کہ اپریل 2020 میں بھارتی حکومت نے جلال آباد اور ہرات کے 2 قونصل خانوں میں آپریشنز معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اپنے تمام سفارتی عملے کو نکالا تھا۔

India prepares contingency plan as Taliban gain ground, evacuates staff from Kandahar consulate

بھارتی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ کرونا وبا کی وجہ سے اس نے سفارتی عملے کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا تھا تاہم یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ عملے کو سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے واپس بلایا گیا کیونکہ ان کو ابھی تک واپس نہیں بھیجا گیا۔

اطلاعات یہ ہے کہ قندھار کے قریب طالبان نے اہم اضلاع کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، گزشتہ ہفتے پنجوائی، جو قندھار شہر سے ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے، طالبان نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

Kandahar - Wikipedia

دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے افغانستان کے 250 سے زائد اضلاع پر اپنا اثر قائم کرلیا، جب کہ ایرانی سرحد سے متصل علاقہ اور سرحدی چیک پوسٹیں بھی اُن کے قبضے میں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کابل میں قائم مختلف ممالک کے سفارت خانے کے باہر شہریوں کی لمبی قطاریں ہیں، جو جنگ زدہ علاقے سے نکل کر کسی دوسرے ملک میں مہاجر کی حیثیت سے جانے کیلئے تیار ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ سمیت جلد از جلد افغانستان سے نکلنے کے خواہش مند ہیں۔

یہ وہ ہی قندھار ہے جہاں 24 دسمبر سال 1999 میں بھارتی ایئرلائن کے طیارے کو ہائی جیک کرکے لایا گیا تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سال 2020 میں 14 نومبر کو کی گئی پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بھارتی خفیہ ایجنسیاں 87 بیس کیمپوں میں پاکستان کے خلاف لوگوں کو تربیت فراہم کر رہی ہیں، جن میں سے 66 افغانستان میں ہیں۔ پاکستان کی سرحدوں کے ساتھ افغانستان میں بھارتی سفارت خانہ اور قونصلیٹ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی مالی معاونت کے مراکز بن چکے ہیں۔

برطا نوی نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ماہرین کی نظر میں روس افغانستان کے بارے میں غیر جانبداری کی پالیسی کو ترک کر کے طالبان کی حمایت پر آمادہ نظر آتا ہے۔

روس کی اعلان کردہ پالیسی یہ ہے کہ اسے وسطی ایشیا میں اپنے اتحادی ممالک کو منفی اثرات سے بچانا ہے۔ اس کے علاوہ روس کے کیا ارادے ہیں یہ واضح نہیں ہے تاہم افغانستان میں طالبان کی حالیہ کامیابیوں کے بعد روس نے افغان حکومت سے ہاتھ کھینچ لیے ہیں اور حکام ایسی باتیں کر رہے ہیں جس سے تاثر ملتا ہے کہ روس سمجھتا ہے کہ نیٹو افواج کی روانگی کے بعد اشرف غنی کی حکومت کا افغانستان میں کوئی کردار نہیں بنتا۔

متعلقہ خبریں