افغانستان:طالبان سے لڑائی میں اہم افغان کمانڈرز مارے گئے

چارسو فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے

Your browser does not support the video tag.

افغان فورسز نےاسپن بولدک کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے آپريشن شروع کرديا اور اس کے اور طالبان کے ايک دوسرے پر حملے اور ایک دوسرے کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کے دعوے کیے جارہے ہیں۔

افغانستان میں جاری افغان آرمی اور افغان طالبان کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی ہے اور اس دوران طالبان نے بامیان کا ضلع سیغان بھی دوبارہ افغان آرمی سے چھین لیا۔

افغان فورسز اسپن بولدک کا کنڑول حاصل کرنے کے لیے ميدان ميں ہيں پاک افغان بارڈ ر کراسنگ پر بھی جنگ جاری ہے۔

قندھار ميں افغان فوج کے ڈپٹی ڈائريکٹر جوائنٹ اسپيشل آپريشن مارے گئے جبکہ پکتيکا ميں 400 اہلکاروں نے ہتھيار ڈال ديے۔

قندھار سے متصل اسٹريٹجک ضلع ارغنداب سے افغان فوج فرار ہوگئی جس کے بعد ضلع اس کا کنٹرول طالبان کے پاس آگيا ہے جبکہ لڑائی میں اين ڈی ايس کا ايک افسر حبيب ارزگان بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

افغان وزارت دفاع نے بدخشاں اور لشکرگاہ پر فضائی حملوں ميں 50 طالبان کے مارے جانے کا دعویٰ کيا ہے جبکہ طالبان ترجمان کے مطابق تخار، ننگر ہار، جوزجان ميں طالبان کے حملے ميں 70 افغان اہلکار جان سے گئے۔

متعلقہ خبریں