افغانستان سفیر واپس بلانے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے، پاکستان

افغان سفیرکی بیٹی کے اغواء کی تصدیق نہیں ہوئی، حکام

Your browser does not support the video tag.

شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغانستان سے اپیل کی ہے کہ وہ اسلام آباد سے اپنا سفیر واپس بلانے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ آئی جی اسلام آباد کہتے ہیں کہ افغان سفیر کی بیٹی کے اغواء اور تشدد کی تصدیق نہیں ہوئی۔

اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کو جمعہ کے روز مبینہ طور پر اغواء کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور چند گھنٹے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔ جس پر افغان وزارت خارجہ کی جانب سے ایک بیان بھی جاری کیا گیا۔

اسلام آباد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید سلطان کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد نے انکشاف کیا کہ افغان سفیر کی بیٹی کے اغواء اور تشدد کی تصدیق نہیں ہوئی۔

مزید جانیے: اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی پر حملہ

ان کا کہنا تھا کہ لڑکی گھر سے نکل کر جہاں جہاں گئی، جن جن ٹيکسيوں ميں سفر کيا، سب کو ٹريس کرليا، جو تاثر ديا گيا، شواہد سے وہ ثابت نہيں ہوا۔

وزير خارجہ شاہ محمود قريشی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تحقيقات کے نتائج افغان حکام سے شيئر کئے جائيں گے، افغان سفير کو ايک سوالنامہ ارسال کيا ہے، حتمی نتيجے پر پہنچنے کیلئے باہمی تعاون ضروری ہے۔

انہوں نے مزيد کہا کہ ہم افغانستان سے سفارتی تعلقات مکمل طور پر بحال رکھنا چاہتے ہيں، افغان ہم منصب سے گفتگو ميں افغان سفير اور عملے کو واپس بلانے کے فيصلے پر نظرثانی کرنے کا کہا ہے۔

آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان نے افغان سفیر کی بیٹی کے گھر سے نکلنے کے بعد کے تمام روٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ افغان سفير کی بیٹی 16 جولائی کو ايف 7 ميں اپنے گھر سے پيدل نکليں اور رانا مارکيٹ گئيں، جہاں سے وہ ٹيکسی لے کر کھڈا مارکيٹ گئيں اور وہاں انہوں نے ايک گفٹ خريدا، کھڈا مارکيٹ سے انہوں نے دوسری ٹیکسی لی جس نے انہیں ايکسپريس وے اور فيض آباد سے ہوتے ہوئے راولپنڈی صدر پہنچايا۔

قاضی جمیل الرحمان نے مزید کہا کہ افغان سفیر کی بیٹی نے راولپنڈی صدر سے تیسری ٹیکسی لی اور واپس اسلام آباد آئیں اور دامن کوہ پہنچیں، دامن کوہ سے انہوں نے چوتھی ٹيکسی ہائر کی اور ايف نائن پارک گئیں، وہاں اتر کر افغان سفير کی بیٹی نے کسی سے موبائل لے کر سفارتخانے کو فون کيا جس کے بعد ایمبیسی کا کوئی فرد انہیں واپس گھر لے آيا۔

یہ بھی پڑھیں: افغان سفیر کی بیٹی نےپولیس کو بیان ریکارڈ کرادیا

آئی جی اسلام آباد کے مطابق روٹ کا سراغ لگانے کیلئے 300 سے زيادہ کيمروں کی اسکروٹنی کی گئی اور 220 سے زائد لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی۔

مشير قومی سلامتی معيد يوسف کہتے ہيں پاکستان کو ہائبرڈ وار کا سامنا ہے، بھارت اور افغانستان مل کر پاکستان مخالف ٹرينڈز چلارہے ہيں، پاکستان کیخلاف جھوٹا پروپيگنڈا کيا جارہا ہے، سازشی عناصر پاک، افغان تعلقات خراب کرنا چاہتے ہيں، تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال ٹھیک نہیں۔

متعلقہ خبریں