افغانستان سے انخلا کا عمل سُست کیا جا سکتا ہے، پینٹاگون

پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ طالبان کی کارروائیوں اور انہیں حاصل ہونے والے فوائد کے باعث افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا عمل سست کیا جا سکتا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کے روز جان کربی نے کہا کہ صدر جو بائیڈن کی جانب سے دی جانے والی ڈیڈ لائن برقرار رہے گی تاہم انخلا کے عمل کو صورت حال کی مناسبت سے ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’افغانستان میں طالبان کی جانب سے اضلاع پر حملوں اور تشدد کی کارروائیوں کے بعد صورت حال تبدیل ہو رہی ہے۔‘
مزید پڑھیں
 ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر کسی بھی دن یا ہفتے کے دوران فوجیوں کے انخلا کی رفتار میں تبدیلی کی ضرورت پڑی تو ہم اس ضمن میں لچک کا مظاہرہ کریں گے۔‘
ان کے مطابق ’ہم ہر ایک دن کا مسلسل بغور جائزہ لے رہے ہیں، کہ صورت حال کیا ہے، ہمارے پاس کیا کچھ ہے اور ہم کیا کر سکتے ہیں، ہمیں مزید کن ذرائع کی ضرورت ہے اور ہم نے افغانستان سے نکلنے کے لیے کیا رفتار رکھنی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ تمام فیصلے مطلوبہ وقت پر کیے جائیں گے۔‘
خیال رہے کہ پینٹاگون حکام نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ افغانستان میں 20 سال تک القاعدہ کے خلاف لڑنے اور حکومت کو طالبان سے لڑائی میں مدد کے بعد صدر جو بائیڈن نے فوجیوں کے انخلا کا حکم دیا ہے جو تقریباً آدھا مکمل ہو چکا ہے۔

پینٹاگون کے مطابق ’افغانستان میں طالبان کے حملوں اور تشدد کی کارروائیوں کے بعد صورت حال تبدیل ہو رہی ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
 امریکی صدر کے احکامات کے وقت تقریباً ڈھائی ہزار امریکی فوجی اور 16 ہزار کنٹریکٹرز، جن میں سے زیادہ تر امریکی ہیں، افغانستان میں موجود تھے۔
پینٹاگون نے پہلے ہی اپنے کئی اہم اڈوں کو حکومتی افواج کے حوالے کر دیا ہے اور مختلف ساز و سامان سے لدے سینکڑوں کارگو جہازوں کو بھی ہٹا دیا ہے۔
جان کربی کے مطابق امریکی افواج طالبان سے لڑائی میں افغان فوجیوں کی مدد کرتی رہیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنی استعداد کے مطابق افغان فوجیوں کا ساتھ دیں گے، لیکن جوں جوں واپسی کا عمل تکمیل کے قریب پہنچے گا یہ سلسلہ کم ہوتا جائے گا اور اس کے بعد دستیاب نہیں ہوگا۔‘