’افغانستان میں انڈیا کی جگ ہنسائی، بھاگنے کے سوا راستہ نہیں‘

پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ خطے میں صورتحال بدل گئی ہے اور انڈیا کی افغانستان میں جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ انڈیا کے پاس افغانستان سے بھاگنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔
اتوار کو راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ انڈیا نے 40 سال پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو وہاں منظم کیا۔ پاکستان کے خلاف دنیا کے میڈیا کو غلط اطلاعات فراہم کی گئیں۔
مزید پڑھیں
شیخ رشید نے کہا کہ ’ہم افغانستان میں امن کے لیے پہلے بھی دنیا کے ساتھ تھے اور اب بھی ساتھ ہیں۔ لیکن اب پاکستان افغانستان کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے کو کوئی اڈہ نہیں دے گا یہ عمران خان کا اٹل فیصلہ ہے۔‘
وزیر داخلہ کے مطابق ’پاکستان کی قوم بھی یہی چاہتی ہے کہ ہم آلہ کار نہ بنیں اور غیرت سے جئیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستان پر پریشر ہے تو پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں۔ ایسے خطے میں واقع ہے کہ دنیا کی کوئی سپر پاور ہمیں نظرانداز نہیں کر سکتی۔ خواہ چین ہو، خواہ وہ امریکہ ہو، خواہ وہ روس ہو۔‘
وزیر داخلہ نے کہا کہ جغرافیائی لحاظ سے ’ہمیں ایسے مقام پر بنایا ہے کہ ہمارے بغیر کسی کی دال ہمارے بغیر نہیں گلتی۔‘
شیخ رشید کے مطابق موجود حکومت اور پاک فوج مل کر افغانستان میں امن کی راہ ہموار کریں گے۔

شیخ رشید نے کہا کہ کابل میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے طورخم اور چمن بارڈر پر خصوصی انتظامات کیے گئے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کو امید ہے کہ افغانستان میں امن ہوگا۔ ’جیسے طالبان بدل گئے ہیں، دنیا چھوڑ کے بدل گئی ہے اسی طرح پاکستان بھی اپنی پالیسی میں یکسو ہے کہ افغانستان ایک خود مختار ملک ہے وہاں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوگی۔ نہ اشرف غنی کے لیے، نہ طالبان کے لیے۔ جو عبداللہ عبداللہ فیصلہ کریں، کرزئی فیصلہ کریں، افغانستان کے عوام فیصلہ کریں وہ ہمیں قابل قبول ہے۔‘
شیخ رشید نے کہا کہ کابل میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے طورخم اور چمن بارڈر پر خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور ایف آئی اے کو اس حوالے سے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔