افغانستان کاسفیر اورعملہ واپس بلانےکا اعلان،’فیصلہ افسوسناک‘:پاکستان

افغانستان نے پاکستان سے سفیر اور سفارتی عملے کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے جب کہ پاکستان نے فیصلے کو افسوسناک قرار دے دیا ہے۔ 
افغان وزارت خارجہ کے ٹوئٹر ہینڈل پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کے بعد افغان قیادت نے پاکستان سے سفیر اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے۔
’سفارتی عملہ اس وقت تک پاکستان واپس نہیں جائے گا جب تک افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا میں ملوث افراد کو سزااور سفارتکاروں کے تحفظ کے لیے اقدامات نہیں اٹھائے جاتے۔‘
مزید پڑھیں
اتوار کو جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان وفد پاکستان کا جلد دورہ کرے گا تاکہ کیس اور دیگر معاملات کا جائزہ لیا جا سکے، جس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

دریں اثنا پاکستان نے افغانستان کے اپنے سفیر اور سفارتی عملے کو واپس بلانے کے فیصلے کو افسوسناک قرار دے دیا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان سفیر کی بیٹی کی مبینہ اغوا اور اس پر تشدد کی تحقیقات ہورہی ہے اور وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر اس کی اعلیٰ سطح پر  نگرانی کی جارہی ہے۔
سفیر،ان کی فیملی اور افغانستان کے سفارت خانے اور قونصلیٹ کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری خارجہ نے آج افغانستان کے سفیر سے ملاقات کی اور حکومت کی جانب سے اس حوالے سے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات پر روشنی ڈالی اور سفیر کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ترجمان نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ افغان حکومت اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرے گی
اس سے پہلے افغانستان کے نائب صدر امر الصالح نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’صدر اشرف غنی نے افغانستان کے وزارت خارجہ کو پاکستان سے سفیر اور دیگر سینیئر سفارتی عملے کو واپس بلانے کی ہدایت کی ہے۔ افغان سفیر کی بیٹی کا اغوا اور اس پر تشدد نے ہماری قوم کی روح کو زخمی کر دیا ہے اور ہماری قومی روح پر تشدد کیا گیا ہے۔‘
افعان حکومت کے اس فیصلے سے کچھ دیر قبل پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ اسلام آباد سے افغان سفیر کی بیٹی کو اغوا نہیں کیا گیا۔
جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میڈیا پر چلنے والی تصاویر افغان سفیر کی بیٹی کی نہیں بلکہ جعلی ہیں۔
شیخ رشید نے کہا تھا کہ ’ایک فوٹیج ڈھونڈ رہے ہیں وہ مل جائے تو سب کچھ سامنے آئے گا۔‘
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ’انڈیا اس معاملے میں دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، انڈین سوشل میڈیا پر پرانی تصاویر کو اچھالا جا رہا ہے۔‘

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ اسلام آباد سے افغان سفیر کی بیٹی کو اغوا نہیں کیا گیا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
خیال رہے 17 جولائی کو افغانستان کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں  کہا تھا کہ اسلام آباد میں تعینات افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی سلسلہ علی خیل کو 16 جولائی کو نامعلوم افراد نے کئی گھنٹوں تک اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔
افغان وزارت خارجہ نے پاکستان اس واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔
سنیچر کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید کو ہدایت کی تھی کہ اس واقعے میں ملوث ملزمان کو 48 گھنٹوں کے اندر گرفتار کیا جائیں۔