افغانستان: کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی شوریٰ کااہم رکن ماراگیا

افغانستان کے صوبہ کنڑ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی شوریٰ کا اہم رکن اور ملا فضل اللہ کا قریبی ساتھی مارا گیا۔

افغانستان کے ضلع کنڑ کی پولیس کے مطابق کالعدم ٹی ٹی ٹی پی کی شوریٰ کے رکن مفتی خالد کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی ہے، انہیں نامعلوم افراد نے قتل کرکے لاش ویران مقام پر پھینک دی۔

مفتی خالد کا تعلق خیبرپختونخوا کے علاقے بونیر سے تھا، وہ کالعدم ٹی ٹی پی  ملا فضل اللہ کا قریبی ساتھی تھا، وہ 2008ء میں انتخابی ریلی پر خودکش حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا، جس میں 30 سے زائد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق مفتی خالد اے پی ایس، باچا خان یونیورسٹی اور پی اے ایف بیس بڈھ بیر پر دہشتگرد حملوں کی منصوبہ سازی اور سہولت کاری میں شامل تھا، وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی دہشتگرد کارروائیوں کا جواز پیش کرکے فتویٰ جاری کرتا تھا۔

ملا فضل اللہ نے 2013ء میں مفتی خالد کو کالعدم ٹی ٹی پی کی سیاسی شوریٰ کا سربراہ مقرر کیا تھا، اس وقت وہ صوبہ ننگرہار میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے معاملات دیکھ رہا تھا۔

رپورٹس ہیں کہ مفتی خالد بھارتی خفیہ ایجنسی را اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان رابطہ کار بھی تھا۔

  خیال کیا جارہا ہے کہ مفتی خالد کی ہلاکت سواتی گروپ (قاری امجد) اور محسود گروپ (مفتی نور ولی محسود، موجودہ امیر ٹی ٹی پی ) کی آپسی لڑائی کا نتیجہ ہے۔

متعلقہ خبریں