افغانستان کا نمائندہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب سے دستبردار

پیر 27 ستمبر 2021 19:06

اقوام متحدہ کے ترجمان نے افغان نمائندے کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں سے خطاب سے دستبردار ہونے کی تصدیق کی ہے۔(فوٹو: اے ایف پی)

اقوام متحدہ میں افغانستان کا نمائندہ جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے سے دستبردار ہو گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان نے افغان نمائندے کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں سے خطاب سے دستبردار ہونے کی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں
غلام اسحاق زئی جنہوں نے گزشتہ ماہ معزول ہونے والی سابق صدر اشرف غنی کی حکومت کی اقوام متحدہ میں نمائندگی کی تھی، ان کا نام پیر کو مقررین کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کی ترجمان مونیکا گریلی نے اے ایف پی کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’ملک(افغانستان) جنرل ڈیبیٹ میں اپنی شرکت واپس لے رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ میں افغانستان کے مشن نے خطاب سے دستبرداری کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔
واضح رہے کہ طالبان نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان کے نئے وزیر خارجہ امیر خان متقی کو ’شرکت‘ کی اجازت دینے کے بارے میں کہا گیا تھا۔
خط میں اصرار کیا گیا تھا کہ اسحاق زئی اب عالمی ادارے میں ’افغانستان کی نمائندگی نہیں کرتے۔‘
خط میں کہا گیا کہ طالبان نے دوحہ میں مقیم اپنے ترجمان سہیل شاہین کو اقوام متحدہ میں افغانستان کا مستقل نمائندہ نامزد کیا ہے۔
یہ خط اس وقت آیا ہے کہ جب انتونیو گوتیرس کو 15 ستمبر کو اسحاق زئی کا ایک علیحدہ خط موصول ہوا جس میں جنرل اسمبلی کے سیشن کے لیے افغانستان کے وفد کی فہرست تھی۔
اس خط میں اسحاق زئی کو افغانستان کا مستقل نمائندہ قرار دیا گیا تھا۔
اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ اب بھی اسحاق زئی کو افغانستان کے مشن کا سربراہ سمجھتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ ’صرف مشن ہی اسمبلی سے خطاب سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔‘
افغان مشن فوری طور پر اس فیصلے پر تبصرے کے لیے دستیاب نہیں تھا۔
اقوام متحدہ کی نو رکنی کریڈنشل کمیٹی جس میں امریکہ، روس اور چین شامل تھے، نے طالبان کی درخواست منظور کرنی تھی لیکن اس نے وقت پر میٹنگ نہیں کی۔
طالبان کی جانب سے لکھے گئے خط میں اصرار کیا گیا تھا کہ اسحاق زئی اب عالمی ادارے میں ’افغانستان کی نمائندگی نہیں کرتے۔‘