افغانستان کواپنےمستقبل کا فيصلہ خود کرنا ہے،جُوبائیڈن

افغانستان کی اعلی قیادت نے امریکا میں اہم ملاقاتوں میں امریکی فوجی کی واپسی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔

جمعہ کو واشنگٹن میں افغان صدر اشرف غنی اورعبداللہ عبداللہ نے امريکی صدر جُوبائيڈن سے ملاقات کی۔ جُوبائيڈن کا کہنا تھا کہ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کا وقت آگیا ہے اور اب افغانیوں کو اپنے مستقبل کا فيصلہ خود کرنا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ امریکا افغانستان کی مدد جاری رکھے گا اور دونوں ملکوں ميں فوجی اور اقتصادی تعاون ختم نہيں ہوگا۔ فوج کے انخلا کے باوجود650 امريکی فوجی کابل ميں موجود رہيں گے۔ جُو بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ مجھے جب بھی کوئی مشکل ہو توافغان صدر اشرف غنی کا خيال آتا ہے۔

افغان صدر نے کہا کہ امریکی فوج کی واپسی کا فیصلہ جُوبائیڈن واپس نہیں لیں گے اور یہ تاریخی فیصلہ ہے۔انھوں نے امریکی فوج کی واپسی کے فیصلے کی حمایت کرنے کا یقین دلایا۔

اشرف غنی اور چيف ايگزيکٹوعبداللہ عبداللہ نے پينٹا گون کا بھی دورہ کیا اور امریکی وزير دفاع سے ملاقات میں 8 اضلاع کا طالبان سے قبضہ واپس لينے کا دعوی کیا۔امریکی وزیردفاع لائیڈ آسٹن نے افغان رہنماؤں کو بتایا کہ افغانستان کے استحکام اورسیکورٹی کے لیے امریکا نے بہت کام کیا ہے۔

واضح رہے کہ امريکا کی طرف سے 11 ستمبر سے پہلے افغانستان سے انخلا کے اعلان کے بعد طالبان نے بڑے پيمانے پر کارروائياں شروع کردی ہيں اور180 سے زائد اضلاع پر طالبان نے قبضہ کرليا ہے جبکہ افغان فورسز اور پوليس اہلکار بھی بڑی تعداد ميں ہتھیار ڈال رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں