’افغانستان کوتنہا چھوڑا تو برطانیہ کے لیے دہشت گردی کا خطرہ بڑھ جائے گا‘

برطانیہ کے خفیہ ادارے کے سابق سربراہ نے کہا ہے کہ امریکی اور اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد برطانیہ کے لیے دہشت گردی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
عرب نیوز کے مطابق برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے سابق سربراہ سر ایلکس ینگر نے کہا ہے کہ برطانیہ کے افغانستان کو تنہا چھوڑنے کی صورت میں القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے خطرے میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ انخلا کے نتیجے میں طالبان اور کابل میں نیٹو کی حمایت یافتہ حکومت کے درمیان خانہ جنگی کے سب سے زیادہ امکانات ہیں۔
مزید پڑھیں
ایم آئی سکس کے سابق سربراہ نے خبردار کیا کہ 1989 میں سویت یونین کا افغانستان پر حملہ اور انخلا کے بعد کے واقعات کے دہرائے جانے کا خطرہ موجود ہے جب دیگر ممالک کی غفلت کے باعث افغانستان میں وسیع پیمانے پر دہشت گردی کے تربیتی نیٹ ورک قائم ہو گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ نائن الیون اور 2001 میں افغانستان پر حملے کے بعد برطانوی انٹیلی جنس نے دہشت گردوں کا اس نوعیت کا انفراسٹرکچر بے نقاب کیا تھا جو صرف تصور ہی کیا جا سکتا تھا۔
سر ایلکس ینگر کا کہنا تھا کہ 11 ستمبر 2001 کے علاوہ 16 فروری 1989 کی تاریخ بھی اہمیت کی حامل ہے جب روسی فوج مکمل طور پر افغانستان سے نکل گئی تھی۔
’اس کے بعد مغربی ممالک نے افغانستان کو تنہا چھوڑ دیا۔ ایسا دوبارہ کرنا بہت بڑی غلطی ہوگی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ممالک کی افغانستان میں 20 سالہ موجودگی کے بعد بھی  دہشت گرد گروپ موجود ہیں۔
’داعش اور القاعدہ کے خلاف بہت زیادہ کامیابی حاصل کی ہے اور ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم یہ دعویٰ کرنا کہ وہ افغانستان سے نکل گئے ہیں، غلط ہوگا۔ دوبارہ فعال ہونے کی صلاحیت ان میں موجود ہے۔‘

طالبان کئی اضلاع پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ فوٹو اے ایف پی
اقوام متحدہ نے جون میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ افغانستان میں القاعدہ کے تقریباً پانچ سو جنگجو موجود ہیں۔ جبکہ دیگر ذرائع کے مطابق داعش سے تعلق رکھنے والے دو ہزار جنگجو موجود ہیں۔
سر الیکس کا کہنا ہے کہ اگر دہشت گرد گروہوں کو دوبارہ فعال ہونے کی اجازت دی تو برطانیہ اور اس کے اتحادی ممالک کو زیادہ خطرہ ہوگا۔
جغرافیائی و سیاسی امور کی محقق کائل آرٹن نے عرب نیوز کو بتایا کہ افغانستان کو تنہا چھوڑنے کا مطلب وہ تمام حالات پیدا کرنا ہے جن کی بنیاد پر حملہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’نیٹو افواج کے جانے کے بعد دہشت گردوں کے پاس زیادہ آزادی ہوگی کہ وہ ہمارے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر سکیں، طالبان کے اقتدار میں  آنے سے نہ صرف القاعدہ بلکہ داعش بھی واپس آئے گی۔‘
افغانستان میں تعینات برطانوی ملٹری انٹیلی جنس کے سابق عہدیدار نے عرب نیوز کو بتایا کہ مغربی ممالک کے انخلا، طالبان کا وسیع علاقوں پر پھیلاؤ اور اقتدار پر ممکنہ قبضے سے دہشت گرد تنظیموں کے لیے ایسی صورتحال پیدا ہو جائے گی کہ وہ افغانستان کی زمین کو عالمی دہشت گردی کے لیے تربیعتی کیمپ کے طور پر استعمال کریں گے۔

حکومت نے طالبان کے قبضے سے علاقوں کا کنٹرول واپس لینے کا کہا ہے۔ فوٹو اے ایف پی
انہوں نے کہا کہ اس کا اثر صرف علاقائی استحکام پر ہی نہیں ہوگا بلکہ دہشت گردی کو عالمی سطح پرممکن بنایا جا سکے گا۔
برطانوی حکومت کے نئے قومی سلامتی کے مشیر سٹیفن لوگروو نے پارلیمان کے اراکین  کو بتایا کہ دنیا ممکنہ طور پر زیادہ خطرناک ہو جائے گی۔
نیٹو افواج کے انخلا کے باوجود برطانوی وزیر دفاع بین والس نے پارلیمان کو بتایا کہ برطانیہ افغان حکومت کے ساتھ کام کرتا رہے گا اور افغانستان میں برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف  پیدا ہونے والے خطرات پر اپنی توجہ مرکوز رکھے گا۔
برطانوی حکومت اور دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اس نقطے پر غور بحث جاری ہے کہ دوحہ معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے افغانستان میں کس طرح اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا جائے۔
برطانوی حکومت اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ برطانوی سپیشل فورسز افغان حکومت کو مدد فراہم کرتی ہیں، جبکہ دوسری جانب کابل میں برطانوی سفارتخانے کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ نے واضح کیا ہے کہ کابل میں برطانوی سفارتخانہ نہیں بند کیا جا رہا۔