افغانستان کی صورتحال بگڑنےسےپڑوسی ممالک متاثرہونگے،شاہ محمود

وزیرخارجہ کی سماء کےپروگرام میں گفتگو

Your browser does not support the video tag.

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغانستان کی صورتحال گھمبیر ہوئی تو تمام پڑوسی ممالک متاثر ہوں گے۔

سماء کے پروگرام نیا دن میں شاہ محمود قریشی نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ افغان پناہ گزینوں کی اکثریت معصوم لوگوں کی ہے اور وہ باعزت طریقے سے اپنے گھر لوٹنا چاہتے ہیں جو انکا حق ہے۔ البتہ پناہ گزینوں کی آڑ میں ایسے شرپسند داخل ہوسکتے ہیں جو دونوں ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

پاکستان واحد ملک ہےجو آج بھی 30 لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کررہا ہے، جب دنیا کی توجہ افغان بھائیوں پر نہیں تھی اس وقت بھی پاکستان اپنے بھائیوں کا ساتھ دیا اور آج بھی کھڑا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت انسانی ہمدردی سے بلکل غافل نہیں لیکن ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو سیکورٹی دیں انکی جان ومال کی حفاظت کریں۔ پاکستان نے سب سے زیادہ افغان جنگ میں متاثر ہوا، 70ہزار شہریوں سمیت ہمارے فوجی جوانوں نے قربانیاں دیں، اربوں ڈالرز کا نقصان برداشت کیا تاہم اب مزید اس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

طالبان کابھارتی قونصل خانے پرقبضہ،ترکی کوجنگ کی دھمکی

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کا امن افغانستان کے فریقین کےدرمیان بات چیت سے حل ہوگا، افغانستان کے ساتھ جن ممالک کا بارڈر ہے وہ پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان وزیر خارجہ سے آج ملاقات ہوگی، جس میں سمجھنےکی کوشش کرونگا کہ ہم افغان عوام کی کیا خدمت کرسکتے ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس۔سی۔او) کی وزرا خارجہ کونسل میں تاجکستان کے وزیر خارجہ سراج الدین مہرالدین سے افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی بات ہوئی ہے، پاکستان خطے میں اپنا مثبت کردار ادا کرےگا۔ افغانستان کے معملات پر روس اور چین سمیت دیگر وزرائے خارجہ سے ملاقات کررہا ہوں۔

اس سے قبل گزشتہ افغان طالبان نے قندھار میں بھارت کا قونصل خانہ بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔ طالبان نے ویڈيو جاری کرتے ہوئے دیکھایا ہے کہ ’بھارتی سفارتکاروں اور سيکيورٹی عملے نے اپنا سامان بھی پيک نہيں کيا‘۔

ہرات کی بندرگاہ بھی طالبان کےقبضے میں چلی گئی

دریں اثناء ہلمند ميں ضلع گرمسير پر قبضہ کرنے کے بعد اب طالبان صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ کی جانب بڑھ رہے ہيں جبکہ تخار کے بيشتر اضلاع بھی طالبان کے قبضے ميں ہيں ليکن افغان فوج انہيں پسپا کرنے کا دعویٰ کررہی ہے۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طيب اردوان کے مطابق کابل ايئرپورٹ کی حفاظت کےلیے امريکا اور ترکی ميں معاملات طے پاگئے ہیں جس کے بعد ايئرپورٹ پر ايئرڈيفنس سسٹم فعال کرديا گيا ہے۔

طالبان کی ترکی کو دھمکی

اس حوالے سے طالبان ترجمان سہيل شاہين نے کہا ہے کہ ترک صدر تاريخی غلطی کررہے ہيں ترکی نے اگر کابل ايئرپورٹ پر فوج اتاری تو پھر کھلی جنگ ہوگی۔

ایران نے اپنے افغانستان کے ساتھ بارڈر پر سیکورٹی بڑھا دی ہے جبکہ جدید اسلحہ بھی نصب کردیا گیا ہے۔

گزشتہ دنوں چين، تاجکستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں کے بعد طالبان نے ايرانی سرحد پر واقع بندرگاہ کا کنٹرول حاصل کرليا تھا۔

افغان طالبان نے امریکی صدر جوبائیڈن کو جواب دیتے ہوئے افغان طالبان نے کہا تھا کہ 85 فیصد افغانستان ہمارے قبضے میں ہے، چاہیں تو 15دن میں پورے ملک کا کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں