افغانوں کے انخلا کے لیے پاکستان اور جرمنی مل کر کام کر رہے ہیں: بلاول بھٹو زرداری

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’ہم ہمیشہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال درست نہیں ہے۔‘ (فوٹو: سکرین گریب)

پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے  کہا ہے کہ ’اس وقت ہم کوشش کر رہے ہیں افغانستان کی عبوری حکومت سے بات کریں اور انہیں بتائیں کہ وہاں سے کیسے برین ڈرین ہو رہا ہے۔‘
پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے جمعے کو برلن میں جرمن ہم منصب انالینا بیئربوک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’ امید ہے کہ افغان شہریوں کے انخلا کے تیسرے مرحلے کے نتائج امید افزا ہوں گے۔‘
مزید پڑھیں
افغان پناہ گزینوں سے متعلق سوال کے جواب میں جرمن وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ہم افغان پناہ گزینوں کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور پاکستان میں موجود جرمن سفارت خانے میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ سٹاف میں اضافہ کر رہے تاکہ افغان پناہ گزینوں کے ویزوں کے مسائل حل ہوں۔‘
’ ہم نے پاکستان کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت کی ہے کہ افغانستان میں طالبان کی ظالمانہ حکومت کے تحت رہ جانے والے شہریوں کا انخلا کیسے ممکن بنایا جائے۔ پاکستان کی حکومت نے ہمیں تعاون کا یقین دلایا ہے کہ وہ افغان شہریوں کے انخلا میں ہماری مدد کرے گی۔‘
بلاول بھٹو زرداری نے جرمن ہم منصب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’جرمن حکومت کے ان اقدامات سے افغان پناہ گزینوں کے ساتھ ساتھ ان پاکستانیوں کو بھی فائدہ ہو گا جو جرمنی آنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس عمل میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔‘
وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرادری نے تنازع کشمیر کے حوالے سے کہا کہ ’یہ حقیقت ہے جنوبی ایشیا میں امن کا قیام جموں کشمیر کے تنازعے کے حل کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور کشمیری عوام کی خواہش کے مطابق ہونا چاہیے۔‘
روس کی جانب سے ممکنہ طور پر ایٹمی ہتھیار  کے استعمال کی دھمکی سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’ہم ہمیشہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال درست نہیں ہے۔ ہم روس اور یوکرین سے یہی کہتے ہیں کہ وہ بات چیت سے مسئلے کا پرامن حل نکالیں۔‘