’افغان اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے‘، بائیڈن، اشرف غنی ملاقات

 امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعے کو وائٹ ہاوس میں اپنے افغان ہم منصب اشرف غنی اور ان کے سیاسی حریف افغانستان کی اعلیٰ مفاہمتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ کے ساتھ ملاقات کی ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ملاقات میں افغانستان کےلیے واشنگٹن کی سپورٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی فورسز جنگ کے بیس سال بعد افغانستان سے انخلا کر رہی ہیں جبکہ افغان سیکیورٹی فورسز طالبان کی پیش قدمی کو پسپا کرنے کی کوشش میں ہیں۔
مزید پڑھیں
اوول آفس میں جوبائیڈن اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے انہیں’ پرانے دوست‘ قرار دیا اور کہا کہ’ افغانستان کے لیے امریکی حمایت ختم نہیں ہو رہی لیکن یہ امریکی انخلا کے باوجود برقرار رہے گی‘۔
بائیڈن نے کہا کہ ’افغانیوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ’ بے معنی تشدد کو اب رکنا چاہیے‘۔
اے پی کے مطابق امریکی صدر نے افغان قیادت سے وعدہ کیا کہ شراکت برقرار رہے گی تاہم انہوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔
اشرف غنی نے کہا کہ ’جمعے کو افغان سیکیورٹی فورسز نے چھ اضلاع کو طالبان کے قبضے سے واپس لیا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ بائیڈن کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ امریکہ اور افغانستان کے درمیان پارٹنر شپ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے‘۔
’ہم اتحاد اور ہم آہنگی کے لیے پر عزم ہیں‘۔
امریکی صدر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ’ افغانستان سے فوجی انخلا کا امریکی فیصلہ خود مختارانہ ہے اور اس کے نتائج کو سنبھالنا کابل کا کام ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ’ بائیڈن واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ امریکی سفارتخانہ کام جاری رکھے گا اور سیکیورٹی امداد جار ی رہے گی اور کچھ معاملات شیڈول کے تحت تیزی سے آگے بڑھیں گے‘۔

 بائیڈن ستمبر تک افغانستان سے امریکی انخلا کا اعلان کر چکے ہیں۔(فوٹو اے ایف پی)
امریکی صدر سے ملاقات سے قبل افغان صدر اشرف غنی نے امریکی محکمہ دفاع  پینٹاگون کا دورہ کیا اور امریکی وزیر دفاع سے ملاقات کی۔
اشرف غنی کیپیٹل ہل بھی گئے جہاں انہوں نے سپیکر نینسی پیلوسی اور ارکان کانگریس سے ملاقاتیں کیں۔
یاد رہے کہ اشرف غنی ایے وقت امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں جب طالبان ملک کے مختلف حصوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ جو بائیڈن ستمبر تک افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کا اعلان کر چکے ہیں۔
 وائٹ ہاؤس نے بائیڈن ، اشرف غنی کی ملاقات کے حوالے سے جاری بیان میں کہا تھا کہ ’صدر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دیرپا شراکت پر غور کرے گا۔ واشنگٹن افغان عوام کی سفارتی، معاشی اور فلاحی مدد کرتا رہے گا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’امریکہ افغان حکومت کے ساتھ رابطے میں رہے گا تاکہ افغانستان دوبارہ دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بن سکے جو امریکہ کے لیے خطرہ ہیں۔‘

افغان مترجمین کو طالبان کی جانب سے خطرے کا سامنا ہے۔( فوٹو اے ایف پی)
تاہم امریکہ کی جانب سے فوج کا انخلا شروع ہونے اور اڈے خالی کرکے افغان حکومت کے سپرد کرنے کے بعد طالبان ملک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی مہم شروع کیے ہوئے ہیں۔
 امریکہ کی طرف سے انخلا کے اعلان کے بعد سے اب تک طالبان کم از کم 30 اضلاع پر قبضہ کر چکے ہیں۔ 
امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے افغان مترجمین کو طالبان کی جانب سے انتقامی حملوں کے خطرے کا سامنا ہے۔
امریکی حکو مت کہہ چکی ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا مکمل ہونے سے پہلے غیر محفوظ افغان مترجمین کے گروپ کو ملک سے باہر محفوظ مقام پر پہنچا دیا جائے گا جہاں سے وہ امریکی ویزا لینے کا عمل مکمل کر سکیں گے۔