افغان سفير کی بيٹی کو اغواء نہيں کيا گيا، وزیرداخلہ

Sheikh Rasheed Interior Minister

فوٹو: آن لائن

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر کی بیٹی کو اغواء نہیں کیا گیا۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ لڑکی گھر سے پيدل نکلی اور کھڈا مارکیٹ سے شاپنگ کی، افغان سفير کی بيٹی اپنی مرضی سے راولپنڈی گئی۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ لڑکی نے پہلے کہا موبائل فون لے گئے اور پھر ڈيٹا ڈيليٹ کر کے موبائل فون خود دے ديا۔

شیخ رشید نے کہا کہ لڑکی ايف7 سے دامن کوہ گئی اور وہاں سے ايف نائن پارک گئی۔ لڑکی نے دامن کوہ سے تيسری ٹيکسی لی اور گھر نہیں گئی جبکہ دامن کوہ ميں لڑکی نے انٹرنيٹ بھی استعمال کیا۔

وزير داخلہ نے واقعے کو عالمی سازش اور را کا ايجنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ميڈيا پر چلنے والی تصاوير اس لڑکی کی نہيں بلکہ جعلی ہيں۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کے اغواء کے واقعے کے بعد افغانستان نے پاکستان سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔

اسلام آباد میں تعینات افغانستان کے سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی کو 16جولائی کو نامعلوم افراد نے اغواء کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا اور کچھ گھنٹوں بعد چھوڑ دیا۔

افغانستان نے پاکستان سے اپنا سفیر واپس بلا لیا

افغان سفیر کی بیٹی کا بیان

اتوار 18جولائی کو افغان سفیر کی بیٹی نے پولیس کو بیان ریکارڈ کروا دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ گھر سے کچھ دور ٹیکسی میں شاپنگ کیلئے گئی تھی۔ اچانک ایک شخص آیا اور ٹیکسی میں بیٹھ کر مجھ پر تشدد کرنے لگا۔

ابتدائی بیان میں لڑکی کا کہنا ہے کہ تشدد کے باعث میں بیہوش ہوگئی اور آنکھ کھلی تو پارک میں گندگی کے ڈھیر پر تھی۔

لڑکی کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں گھر کے بجائے پارک میں چلی گئی اور والد کے آفس کے کولیگ کو بلایا جو مجھے گھر لے کر گیا۔

افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا اور تشدد کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں